وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وگرنسی (گداگری) کنٹرول اینڈ ری ہیبلی ٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی
وگرنسی کنٹرول اینڈ ری ہیبلی ٹیشن بل کی منظوری
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ویلفیئر اسٹیٹ ویژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وگرنسی (گداگری) کنٹرول اینڈ ری ہیبلی ٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 10 کے فائنل ٹاکرے سے قبل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بڑا جھٹکا، حسن نواز پاوں میں چوٹ کی وجہ سے ہسپتال منتقل
نئے بل کی خصوصیات
نیا وگرنسی بل منظم، جبری اور استحصالی بھیک کے خلاف واضح اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائے گا۔ حکومت بھیک کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے حقوق پر مبنی، اصلاحی اور انسانی وقار پر قائم پالیسی اختیار کر رہی ہے، جس کا مقصد سزا کے ساتھ ساتھ بحالی اور آفٹر کیئر کا مضبوط نظام قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی تیز کرنے کی ہدایت
بچوں کی حفاظت
بچوں کو بھیک پر لگانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ بچوں کو بھیک سے نکال کر تحفظ، بحالی اور تعلیم فراہم کرنا حکومت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرینی صدرزیلنسکی کے چیف آف سٹاف مستعفی، کن الزامات کا سامنا تھا ؟ جانیے
قانون کے تحت سزائیں
مجوزہ نئے قانون کیمطابق منظم اور جبری بھیک کو قابلِ سزا سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کو بریفننگ میں بتایا گیا کہ سادہ بھیک پر پہلی بار وارننگ یا بحالی مرکز بھیجنے / ایک ماہ قید و جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ بار بار بھیک مانگنے پر ایک سال تک قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہو گا۔ فراڈ، دھوکہ دہی اور جعلی معذوری پر ایک سے دو سال قید تجویز کی گئی ہے۔ منظم اور جبری بھیک میں ملوث عناصر کیلئے تین سال تک قید اور چار لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ بھیک مافیا کے سرغنوں اور سہولت کاروں کیلئے سخت ترین سزائیں شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے اعلان
عمران خان کے ویلفیئر اسٹیٹ ویژن کے تحت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وگرنسی (گداگری) کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔
نیا وگرنسی بل منظم، جبری اور استحصالی بھیک کے خلاف واضح اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائے گا۔ حکومت بھیک کے… pic.twitter.com/1pPv5YoI8R
— Government of KP (@GovernmentKP) February 9, 2026








