بنگلہ دیش میں الیکشن کے دن سے قبل ہائی الرٹ، فوج تعینات، موٹر سائیکل پر پابندی
بنگلادیش میں عام انتخابات کے سکیورٹی انتظامات
ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلادیش میں عام انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کر لیے گئے ہیں اور فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشتاق یوسفی کہتے ہیں میں نے بڑے پیار سے بیگم سے پوچھا..؟ (مسکرائیے )
انتخابی مہم کا اختتام
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عام انتخابات جمعرات کو ہوں گے، جس کے لیے ڈھاکا سمیت تمام بڑے اور چھوٹے شہروں میں انتخابی مہم کا آخری روز مکمل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے بارش، موسم خوشگوار ہو گیا
موٹر سائیکل چلانے پر پابندی
انتخابی عمل کو پُرامن بنانے کے لیے حکومت نے رات 12 بجے سے تین روز کے لیے ملک بھر میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سکیورٹی ادارے پولنگ اسٹیشنز اور حساس علاقوں میں الرٹ رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: محمود خان اچکزئی کی تقاریر اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں رکاوٹ، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ریکارڈ منگوا لیا
سیاسی جماعتوں کی تعداد
300 رکنی قومی پارلیمان کی نشستوں کے لیے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلادیش جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 300 میں سے کم از کم 151 نشستیں حاصل کرنا ہوں گی。
یہ بھی پڑھیں: سینئر کامیڈین جاوید کوڈو کی نماز جنازہ ادا،شوبزشخصیات کی شرکت
سابق وزیر اعظم کا استعفیٰ
یہ انتخابات اگست 2024 میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک چھوڑنے کے بعد پہلی بار ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
سروے کے نتائج
دوسری جانب ایک تازہ عوامی سروے کے مطابق انتخابات میں سخت مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔








