سی ای ایس 2026 امتحانات کا شیڈول، فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان نے غلط رپورٹنگ پر قانونی کارروائی کی تنبیہ کردی
سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) 2026 کے امتحانات کا شیڈول
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان (ایف پی ایس سی) نے سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) 2026 کے امتحانات کے شیڈول پر وضاحت کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ غلط رپورٹنگ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال سے انڈونیشین ویکسین ساز کمپنی بایئو فارما کے سربراہ کی ملاقات
امتحان کے حوالے سے اہم تفصیلات
ایف پی ایس سی کے مطابق 4 سے 15 فروری تک سی ایس ایس 2026 امتحانات کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے اور لاہور امتحانی سینٹر کے حوالے سے پروپیگنڈا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور مرکز میں امیدواروں کے لیے جدید سہولیات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر الزام لگاؤ، سچ چھپاؤ اور اپنی عوام کو بیوقوف بناؤ۔۔۔۔بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف شیطانی پروپیگنڈہ پر مبنی کھیل ایک بار پھر بے نقاب
پرچوں کی وقت کی پابندی
شیڈول میں بتایا گیا کہ سی ایس ایس کے لازمی پرچوں کا آغاز صبح 11 بجے مقررہ وقت پر کیا گیا، امیدواروں کو پرچے کے آغاز سے 50 منٹ قبل نشست پر بیٹھنا لازم تھا، مرکزی دروازہ قواعد و ضوابط کے مطابق صبح 10:14 بجے بند کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں 24 کروڑ روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان ضبط کر لیا گیا
تاخیر سے آنے والے امیدواروں کی صورتحال
ایف پی ایس سی نے بتایا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق تاخیر سے آنے والے امیدوار داخل نہیں ہو سکتے تھے، تاخیر سے آمد کے باوجود تمام امیدواروں کو امتحان میں شریک کیا گیا، امتحانی پرچہ مقررہ وقت پر شروع اور ختم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قوم کو خوشی منانی چاہیے ، پاکستان اشتعال انگیزی نہیں چاہتا، امن کا خواہاں ہے: صدر مملکت
امتحانی ہدایات کی وضاحت
اس ضمن میں بتایا گیا کہ ویب سائٹ اور ایڈمیشن سرٹیفکیٹ پر تمام ہدایات واضح درج ہیں، ایم ڈی کیٹ اور دیگر اہم امتحانات میں ایک گھنٹہ قبل نشست کی ہدایت کی جاتی ہے، ایک گھنٹہ قبل نشست کا مقصد پرچے کے آغاز سے پہلے ضروری اقدامات یقینی بنانا ہے۔
غلط رپورٹنگ کی تنبیہ
ایف پی ایس سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ بعض سی ایس ایس کوچنگ اکیڈمیز سے وابستہ افراد نے واقعے کی غلط رپورٹنگ کی، قواعد و ضوابط کا نفاذ اور پابندی یقینی بنائی جائے گی جبکہ غلط رپورٹنگ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔








