ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیرِاعلیٰ اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شہرِ ہوائے غمزدہ،دیکھ بجھے چراغ کو۔۔۔۔
سماعت کی ملتوی
نجی ٹی وی چیل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی فلپائن کے ساحل کے قریب مسافر کشتی ڈوب گئی، 15 افراد ہلاک
وفاقی حکومت کی درخواست
وفاق نے 16 مئی 2025 کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں ترمیم کی اجازت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیرِ اعظم اور کابینہ سے امریکا میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کی بیگمات کتنی ہیں؟ ٹرمپ کا شامی صدر احمد الشرع سے دلچسپ سوال
وفاقی حکومت کا موقف
وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ درخواست میں ترمیم عدالتی اختیارات سے تجاوز اور طے شدہ مقدمات کی حتمیت کے منافی ہے، جبکہ طویل عرصے بعد نمٹائے گئے معاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔ وفاق کے مطابق یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے جڑا ہے۔
ترمیم شدہ درخواست کی تفصیلات
ترمیم شدہ درخواست میں رہائی اور وطن واپسی کے لیے حکومتی اقدامات کو آئینی ذمہ داری قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ حکومت کے مطابق اکتوبر 2024 میں وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو رحم کی اپیل کی حمایت میں خط لکھا، اعلیٰ سطحی وفد امریکا بھیجا گیا اور قیدیوں کی منتقلی سے متعلق معاہدوں کی کوششیں کی گئیں، تاہم امریکی حکام نے قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔








