توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ، فیملی ممبر کی موجودگی میں بانی کا میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بانی کا میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی ملک بھر میں بارش کی پیشگوئی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع
حفاظتی اقدامات اور طبی معائنہ
بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولیات پر اظہار اطمینان کیا، بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں شامل سفارشات پڑھ کر سنائیں۔ سلمان صفدر نے کہاکہ بانی کا طبی معائنہ فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے، عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیسٹ کی پچ سپنرز کے لیے سازگار ہوگی، پاکستان کے خلاف سیریز برابر کرنے کی کوشش کریں گے، ایڈن مارکرم
کتابوں کی فراہمی
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں بھی فراہم کی جائیں۔ عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ڈاکٹرز کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں تو فراہم کردی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: جیولن تھرورز کی عالمی رینکنگ جاری، ارشد ندیم چوتھے نمبر پر
معاملے کا زیرالتواء رہنا
عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، رپورٹ میں دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیرالتواء رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری میں ملوث گینگ کا کارندہ مردان سے گرفتار
صحت کی اہمیت
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے صحت کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کررہے ہیں، بانی کی صحت کے معاملے پر بھی مناسب فیصلہ دیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داریاں
اٹارنی جنرل نے کہاکہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بانی کی بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔








