توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ، فیملی ممبر کی موجودگی میں بانی کا میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد
سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور فیملی ممبر کی موجودگی میں بانی کا میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر فیصل واوڈا کی 7 سالہ بیٹی شنایا نے سوئمنگ چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیت لیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی چیف آف جنرل سٹاف کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
حفاظتی اقدامات اور طبی معائنہ
بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولیات پر اظہار اطمینان کیا، بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں شامل سفارشات پڑھ کر سنائیں۔ سلمان صفدر نے کہاکہ بانی کا طبی معائنہ فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے، عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کردی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نوازنے پنجاب کی ہر تحصیل میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سروسز آؤٹ سورسنگ پلان کی منظوری دیدی، کتنی ملازمتیں پیدا ہونگی ؟ جانیے
کتابوں کی فراہمی
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کو کچھ کتابیں بھی فراہم کی جائیں۔ عدالت نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ ڈاکٹرز کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں تو فراہم کردی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گزری میں بچی سے سکول سوئیپر کی مبینہ زیادتی
معاملے کا زیرالتواء رہنا
عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کیخلاف سماعت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے، رپورٹ میں دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیرالتواء رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک کو خبر دار کردیا
صحت کی اہمیت
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے صحت کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کررہے ہیں، بانی کی صحت کے معاملے پر بھی مناسب فیصلہ دیں گے، صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے، صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔
حکومت کی ذمہ داریاں
اٹارنی جنرل نے کہاکہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بانی کی بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے، ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے۔








