بھارت نے خطرناک ترین ہتھیار کی خریداری کیلئے 5 ارب ڈالرز سے زائد رقم کی منظوری دیدی
نئی دہلی میں اہم دفاعی فیصلہ
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت نے جوہری توانائی سے چلنے والی دو حملہ آور آبدوزوں کی خریداری کے لیے 5 ارب 40 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، فی کلو 500 روپے تک بکنے لگے
بحر ہند میں چینی موجودگی کا اثر
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے پیش نظر اپنی فوج کو جدید بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ نے ابتدائی طور پر 2 جوہری حملہ آور آبدوزوں کو بھارتی بحریہ میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں اپنے لیڈر سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
جوہری حملہ آور آبدوزوں کی اہمیت
خیال رہے کہ جوہری طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوزیں دنیا کے سب سے طاقتور بحری ہتھیاروں میں شمار ہوتی ہیں۔ جوہری طاقت سے چلنے والی حملہ آور آبدوزیں چین، فرانس، روس اور امریکہ ہی بناتے ہیں۔
ماضی کی تعمیرات اور مستقبل کی منصوبہ بندی
ماضی میں بھارت نے جوہری طاقت سے چلنے والی 2 حملہ آور آبدوزیں روس سے لیز پر لی تھیں۔ لیکن انہیں واپس کرنے کے بعد سے دوسری لیز پر لینے کے لیے اس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔








