ملٹی اسٹوری کمرشل عمارتوں کے پلانز کو ریسکیو 1122 کی کلیئرنس سے مشروط کر دیا گیا۔
آتشزدگی کے واقعات کا بڑھتا ہوا خدشہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر لاہور میں بڑھتے ہوئے آگ لگنے کے واقعات کے باعث ملٹی سٹوری کمرشل عمارتوں کے پلانز اب ریسکیو 1122 کی کلیئرنس کے بغیر منظور نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ضمانت قبل ازگرفتاری مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاری ضروری ہے، چیف جسٹس پاکستان نے فیصلہ جاری کردیا
سخت احکامات کا اجرا
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ایل ڈی اے ٹاؤن پلاننگ و آرکیٹیکچر ڈائریکٹوریٹ نے بلڈنگ پلانز کی منظوری کے لیے نئے سخت احکامات جاری کردیے ہیں۔ جاری کردہ احکامات کے مطابق فائر سیفٹی این او سی لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ خلاف ورزی پر منظوری نہیں ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
بیسمنٹ کے ریمپ کے نئے آپشنز
احکامات میں بلند و بالا عمارتوں میں بیسمنٹ ریمپ سے متعلق فیصلہ کے مطابق بیسمنٹ کے لیے انٹری و ایگزٹ ریمپ کے تین آپشنز متعارف کرائے گئے ہیں جن میں فرنٹ سائیڈ سے سنگل یا علیحدہ انٹری ہوگی جبکہ ایگزٹ ریمپ کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں ماہ اور دسمبر میں بھی بارش کی کوئی امید نہیں، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
انٹری اور ایگزٹ کی مخصوص ہدایات
فیصلہ میں فرنٹ انٹری، ریئر یا سائیڈ سے ایگزٹ کی اجازت بھی دی گئی ہے تاہم ریئر یا سائیڈ سپیس میں بیسمنٹ ہو تو علیحدہ انٹری اور ایگزٹ ریمپ لازمی قرار دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ آئندہ ہفتے غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے منصوبے اور سٹیبلائزیشن فورس کا اعلان کریں گے
مکینیکل لفٹس کے لئے ہدایات
عمودی عمارتوں میں مکینیکل لفٹس پر واضح ہدایت جاری کی گئی ہے جس میں بیسمنٹ کے لیے مکینیکل لفٹ صرف لازمی ریمپ کے ساتھ اضافی سہولت کے طور پر منظور ہوگی جبکہ صرف لفٹ کے ذریعے بیسمنٹ رسائی کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر خالد العنانی کا ٹیکسلا کا دورہ، ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے ملاقات
ایمرجنسی سیڑھیوں کی ضرورت
احکامات کے مطابق ہر 100 فٹ کے فاصلے پر ایمرجنسی سیڑھیاں لازمی قرار دے دی گئی ہیں۔ ایمرجنسی سٹیئر کیس پلاٹ کے اوپن سائیڈ پر ہوں گے، سینٹر میں بنانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ سیڑھیاں مکمل طور پر وینٹی لیٹڈ اور براہ راست ایگزٹ کے لیے موزوں ہونی چاہئیں۔
منظوری کا عمل اور قوانین
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ ملٹی سٹوری کمرشل بلڈنگ پلانز ویری فکیشن کے لیے انچارج ریسکیو 1122 کو بھیجے جائیں گے۔ ریسکیو 1122 کی این او سی کے بغیر منظوری غیر قانونی تصور ہوگی جبکہ تمام افسران و عملے کو سکروٹنی، منظوری اور ریویژن کے دوران سختی سے عملدرآمد کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے。








