اسلام آباد ہائیکورٹ؛ 3 سال کی قانونی جنگ کے بعد میاں بیوی کے درمیان صلح ہو گئی
اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سال سے جاری فیملی کیس میں میاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی۔ اسلام آباد کے رہائشی میاں بیوی اکٹھے رہنے پر راضی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ، کسی بھی احتجاج یا جلسے پر پابندی
عدالتی حکم
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں عدالتی حکم نامے پر میاں بیوی نے اکٹھے رہنے کی رضا مندی کے دستخط کردیئے۔
عدالت نے خاوند کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کو تاحیات الگ پورشن میں رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نورا فتحی نے سپرہٹ گانے ’دلبر‘ کی شوٹنگ سے انکار کی وجہ بتادی
وکلا کی شرکت
سمعیہ قمر راجہ ایڈووکیٹ اور دیگر وکلا نے کیس کی پیروی کی۔
یہ بھی پڑھیں: افواج پاکستان کی شان ہیں، ہم ان کی بدولت امن و سکون کی زندگی گزار رہے ہیں: مراد علی شاہ
بچوں کی موجودگی
چار بچے جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کی والدین سے کمرہ عدالت میں ملاقات کرائی گئی۔
بچوں کو روسٹرم پر بلاکر جسٹس محسن اختر کیانی نے انٹرویو کئے۔ بچوں نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا "ماما آپ گھر آ جائیں"۔ جسٹس نے بچوں کو تحائف بھی دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک احتجاج کیس: پی ٹی آئی کے 140 سے زائد رہنماوں کی حفاظتی اور راہداری ضمانت منظور
ججز کے ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرد کا کام ہے کہ عورت کو منا کر رکھے۔ مردوں کا تربیتی فقدان ہے، اور ایک عورت جو اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آتی ہے، اسے محبت اور احترام ملنا چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرد کا کام ہے کہ عورت کو الگ رہائش مہیا کرے، اور یہ معاملہ میاں بیوی سے زیادہ خاندان کا مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ عدالت اس کیس میں تحریری آرڈر پاس کرے گی۔
سماعت کے دوران واقعہ
دوران سماعت، بچوں کے انٹرویو کی ریکارڈنگ کرنے پر ایک شخص سے موبائل فون لے لیا گیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ویڈیو ریکارڈ کرنے والے سے استفسار کیا کہ آپ نے کیوں ریکارڈنگ کی؟








