دنیا کو درپیش بہت سے مسائل کا حل تہذیبی اور ثقافتی سفارت کاری میں مضمر ہے: مجیب الرحمان شامی
دنیا کے مسائل کا حل تہذیبی اور ثقافتی سفارت کاری میں
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )دنیا کو درپیش بہت سے مسائل کا حل تہذیبی اور ثقافتی سفارت کاری میں مضمر ہے جو قوموں میں تفریق پیدا کرنے کے بجائے انھیں جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار لاہور میں ایک بین الاقوامی سیمینار میں کیا گیا۔ سیمینار کی صدارت ممتاز دانشور مجیب الرحمان شامی نے کی جب کہ جمہوریہ ترکیہ کے قونصل جنرل لاہور مہمیت ایمن ششمیک مہمان خصوصی تھے۔ سیمینار کا اہتمام پاکستان ترکیے فرینڈ شپ فورم ’’ دوست‘‘ ترک مرکز ثقافت یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ اور ایوان اقبال نے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شکار پور میں شوہر نے غیر ازدواجی تعلقات کے الزام میں حاملہ بیوی کو سب کے سامنے گلا گھونٹ کر قتل کردیا
ثقافتی سفارت کاری کی توسیع کی ضرورت
ممتاز صحافی مجیب الرحمان شامی نے اس موقع پر کہا کہ ثقافتی سفارت کاری کو تعلیم کے شعبے تک وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹیوں میں قائم مسندیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی مختلف جامعات میں قائم چیئرز کو بحال کرے جو پاکستان کا مثبت اور علمی چہرہ دنیا کے سامنے نمایاں کر رہی تھیں۔ انھوں نے ’’ دوست‘‘ کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہ ایسے پلیٹ فارم مسلم دنیا کو اجنبی تہذیبوں کی یلغار سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپ اپنے موجود لمحے کومعمولی شکایتوں کے اظہار کیلئے استعمال کرتے ہیں،کسی قسم کا خطرہ مول لینے سے بہتر ہے مطیع و طاعت گزاری کا طرزعمل اپنا لیں
پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ ثقافت
ترک قونصل جنرل مہمیت ایمن ششمیک نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ ثقافت ان دونوں برادر ملکوں کو دنیا میں ممتاز کرتی ہے۔ دونوں برادر ملکوں کی پرشکوہ تہذیبی اقدار نہ صرف انھیں باہم متحد کرتی ہیں بلکہ جارحانہ ثقافتی رویوں کے سامنے بند بھی باندھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی سموگ: لاشیں مل گئیں۔۔۔ تمام کارڈ کس کے ہاتھ میں تھے۔۔؟
جدید علمی چیئرز کی افادیت
ممتاز شاعر اور دانشور ڈاکٹر سعادت سعید نے جامعات میں علمی چیئرز کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ قونیہ اور استنبول میں قائم چیئرز ترک عوام کو ان کے عظیم الشان علمی اور روحانی ورثے سے جوڑنے کا ذریعہ بنی ہیں۔
سیمینار میں دیگر مقررین کے خیالات
اس موقع پر یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ پاکستان شاخ کے سربراہ ڈاکٹر خلیل طوقار، ’’ دوست ‘‘ کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق عادل، نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ڈین ڈاکٹر نوید الٰہی، اوریئنٹل کالج جامعہ پنجاب کے ڈین ڈاکٹر محمد کامران، ایڈمنسٹریٹر ایوان اقبال کمپلیکس انجم وحید، ڈپٹی ڈائریکٹر یونس ایمرے سنٹر لاہور ایرن میاس اوغلو، گورنمنٹ کالج وومن یونیورسٹی فیصل آباد کی پروفیسر ڈاکٹر صدف نقوی اور ڈاکٹر حافظ عامر نے بھی خطاب کیا۔








