حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے،آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کی پاکستانی حکام سے بات چیت
اسلام آباد( آئی این پی ) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کا عراق جاتے ہوئے دورانِ پرواز برادر اسلامی ملک ایران سے یکجہتی کا اظہار
مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: میوزک پروگرام سے واپسی پر اغوا کی کوشش، بھاگنے پر خواجہ سرا ’’وفا‘‘ کو گولیاں مار دی گئیں
بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات
پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا جب کہ صنعت پر دباؤ کم ہوگا، کیونکہ حکومت سات ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سنیل شیٹی نے داماد کے ایل راہل کے ساتھ مل کر کروڑوں کی زمین خرید لی
توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی
توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی آئی ایم ایف کا ایک طویل مدتی قرضہ پروگرام ہے، جو ممالک کو گہری معاشی کمزوریوں اور درمیانی مدت کی ادائیگیوں کے توازن کے مسائل حل کرنے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جارحیت پر پاک فوج کے بھرپور جواب پر ہمارے سر فخر سے بلند ہیں: سلمان اکرم راجہ
مہنگائی کا دباؤ
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا نکتہ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپارکو نے پاکستان کا دوسرا مقامی سیٹلائٹ EO-2 کامیابی سے لانچ کر دیا
پاور سیکٹر کی حالت
پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ مسائل پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔
بہتر کارکردگی کی ضرورت
آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔








