حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے،آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کی پاکستانی حکام سے بات چیت
اسلام آباد( آئی این پی ) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا غزہ کے لیے امداد لے جانے والی کشتی پر ڈرون حملے کے بعد قبضہ
مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں پولیس نے سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کو گرفتار کرلیا
بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات
پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا جب کہ صنعت پر دباؤ کم ہوگا، کیونکہ حکومت سات ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا میں نیا ورلڈ آرڈر قائم ہو رہا ہے، مشاہد حسین سید
توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی
توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی آئی ایم ایف کا ایک طویل مدتی قرضہ پروگرام ہے، جو ممالک کو گہری معاشی کمزوریوں اور درمیانی مدت کی ادائیگیوں کے توازن کے مسائل حل کرنے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طاقتور طوفان سعودی عرب اور خلیجی خطے کی جانب بڑھ رہا ہے، موسلا دھار بارش، شدید آندھی اور گرد آلود ہواؤں کا خدشہ ہے، ماہرین موسمیات
مہنگائی کا دباؤ
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا نکتہ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کا سانحۂ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ، چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھنے کا اعلان
پاور سیکٹر کی حالت
پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ مسائل پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔
بہتر کارکردگی کی ضرورت
آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔







