حکومت بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے،آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کی پاکستانی حکام سے بات چیت
اسلام آباد( آئی این پی ) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی حکام کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ تبدیلیوں پر بات چیت کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کا بوجھ متوسط یا کم آمدنی والے افراد پر نہیں پڑنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: 85 ہزار پاکستانیوں نے بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلانے سے انکار کیا: وفاقی وزیر صحت
مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام کے ساتھ جاری بات چیت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا نرخوں میں مجوزہ تبدیلیاں وعدوں سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔ میکرو اکنامک استحکام، بشمول مہنگائی، پر ان کے ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کشتی ڈو بنے کے واقعہ ، جاں بحق پاکستانیوں سے متعلق دفتر خارجہ کا بیان بھی سامنے آ گیا
بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات
پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں مجوزہ بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا جب کہ صنعت پر دباؤ کم ہوگا، کیونکہ حکومت سات ارب ڈالر کی توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت شرائط کو پورا کرنا چاہتی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا ایک اور جائزہ قریب آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان؛سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 6خوارج ہلاک، 6زخمی
توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی
توسیع شدہ فنڈ فیسیلٹی آئی ایم ایف کا ایک طویل مدتی قرضہ پروگرام ہے، جو ممالک کو گہری معاشی کمزوریوں اور درمیانی مدت کی ادائیگیوں کے توازن کے مسائل حل کرنے میں مدد کے لیے بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون 17 کو 9 ستمبر کو متعارف کروایا جائے گا، کمپنی کے سربراہ نے تاریخ کی تصدیق کر دی
مہنگائی کا دباؤ
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں بجلی کی نمایاں اہمیت ہے، جس کی وجہ سے نرخوں میں ردوبدل اس وقت انتہائی حساس ہو جاتا ہے جب مہنگائی ایک اہم سیاسی اور معاشی دباؤ کا نکتہ بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ مہنگائی کی شرح 2023 میں اپنی تقریباً 40 فیصد کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 35 سال سے بھارت میں مقیم پاکستانی خاتون کو ملک بدری کا حکم
پاور سیکٹر کی حالت
پاکستان کا پاور سیکٹر طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو ادا نہ کیے گئے بلز اور سبسڈی کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ مسائل پیداواری کمپنیوں، تقسیم کاروں اور حکومت کے درمیان جمع ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے 2023 سے آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ اصلاحات کے تحت بار بار نرخوں میں اضافہ کیا گیا۔
بہتر کارکردگی کی ضرورت
آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ وصولیوں اور نقصان کی روک تھام پر بہتر کارکردگی کی مدد سے پاور سیکٹر کے گردشی قرضوں میں اضافے کو پروگرام کے اہداف کے اندر رکھا گیا ہے۔








