سماجی تاریخ میں اہم پیش رفت، بنگلہ دیش کے انتخابات اور آئینی ریفرنڈم پر خواتین نے اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا
بنگلہ دیش کے انتخابات میں خواتین کی شمولیت
ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سماجی تاریخ میں اہم پیش رفت، بنگلہ دیش کے انتخابات اور آئینی ریفرنڈم پر خواتین نے اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی 18 رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا
پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کی بڑی تعداد
تفصیلات کے مطابق 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کے موقع پر خواتین کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا، جسے علاقے کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 4100روپے کی کمی
56 سال بعد خواتین کا ووٹ ڈالنا
دوسری جانب بنگلہ دیش میں ایسا علاقہ بھی ہے جہاں 56 سال میں پہلی بار خواتین نے ووٹ کاسٹ کیا۔ روپشا ساؤتھ میں 56 سال بعد پہلی مرتبہ خواتین نے ووٹ کاسٹ کیا۔ چاندپور کے فرید گنج اپازلہ کی روپشا ساؤتھ یونین میں خواتین نے 56 برس بعد پہلی مرتبہ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی اسٹیل مل سے قیمتی دھات چاندی اور تانبے کے آلات نکالنے والے 2 ملزم گرفتار
ماضی کی رکاوٹیں اور موجودہ جوش و خروش
’’جنگ‘‘ کے مطابق مقامی افراد کے مطابق 1969 میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت دی گئی تھی، جس کے بعد اس یونین کی خواتین نے دہائیوں تک انتخابات میں حصہ نہیں لیا، حالانکہ الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے انہیں متعدد بار ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی گئی۔
پہلی بار ووٹ ڈالنے کا تجربہ
جمعرات کی صبح ووٹنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یونین بھر کے پولنگ مراکز پر خواتین کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جو جوش و خروش کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچیں، ایک 70 سالہ خاتون نے زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے پر خوشی کا اظہار کیا۔








