سماجی تاریخ میں اہم پیش رفت، بنگلہ دیش کے انتخابات اور آئینی ریفرنڈم پر خواتین نے اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا
بنگلہ دیش کے انتخابات میں خواتین کی شمولیت
ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) سماجی تاریخ میں اہم پیش رفت، بنگلہ دیش کے انتخابات اور آئینی ریفرنڈم پر خواتین نے اہم ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: جس طرح لاہور کے بغیر پاکستان کا ذکر مکمل نہیں اسی طرح ریلوے کی کہانی ہو اور اس میں لاہورجنکشن کا نام نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا
پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کی بڑی تعداد
تفصیلات کے مطابق 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کے موقع پر خواتین کی بڑی تعداد نے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا، جسے علاقے کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آدمی نے اچانک اپنی ایک کروڑ کی نوکری چھوڑ دی، وجہ ایسی کہ نوکری پیشہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوجائیں
56 سال بعد خواتین کا ووٹ ڈالنا
دوسری جانب بنگلہ دیش میں ایسا علاقہ بھی ہے جہاں 56 سال میں پہلی بار خواتین نے ووٹ کاسٹ کیا۔ روپشا ساؤتھ میں 56 سال بعد پہلی مرتبہ خواتین نے ووٹ کاسٹ کیا۔ چاندپور کے فرید گنج اپازلہ کی روپشا ساؤتھ یونین میں خواتین نے 56 برس بعد پہلی مرتبہ اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے وزیراعلیٰ کا کل بسنت کی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرنے کا اعلان
ماضی کی رکاوٹیں اور موجودہ جوش و خروش
’’جنگ‘‘ کے مطابق مقامی افراد کے مطابق 1969 میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت دی گئی تھی، جس کے بعد اس یونین کی خواتین نے دہائیوں تک انتخابات میں حصہ نہیں لیا، حالانکہ الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے انہیں متعدد بار ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی گئی۔
پہلی بار ووٹ ڈالنے کا تجربہ
جمعرات کی صبح ووٹنگ کے آغاز کے ساتھ ہی یونین بھر کے پولنگ مراکز پر خواتین کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جو جوش و خروش کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچیں، ایک 70 سالہ خاتون نے زندگی میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے پر خوشی کا اظہار کیا۔








