ایک عام آدمی اس دباؤ کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو کھلاڑی میدان میں محسوس کرتے ہیں، پاک بھارت میچ میں سارا دباؤ دراصل عوامی توقعات کا ہوتا ہے،سابق کپتان سلمان بٹ
سلمان بٹ کا تجزیہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق قومی کپتان سلمان بٹ نے پاک بھارت میچ کے دوران کھلاڑیوں پر ہونے والے اعصاب شکن دباؤ اور میدان کے اندرونی ماحول سے پردہ اٹھاتے ہوئے اسے ایک بہت بڑا موقع قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال میں پرتشدد مظاہرین نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کو زندہ جلا دیا
کھلاڑیوں پر متوقع دباؤ
ایکسپریس ایکسکلوزیو کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ایک عام آدمی اس دباؤ کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو کھلاڑی میدان میں محسوس کرتے ہیں۔ پاک بھارت میچ میں سارا دباؤ دراصل عوامی توقعات کا ہوتا ہے۔ جب پوری قوم آپ سے جیت کی امید لگائے بیٹھی ہو تو ایک کھلاڑی پر پرفارم کرنے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم، ان کا ماننا ہے کہ ایک پیشہ ور کرکٹر کو اسے بوجھ سمجھنے کے بجائے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس؛ شیریں مزاری سمیت مزید 9 ملزمان پر فردجرم عائد
تاریخ میں نام کمانے کا موقع
سلمان بٹ نے مزید کہا کہ اگر آپ بھارت کے خلاف اچھا کھیل پیش کرتے ہیں تو آپ کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو جاتا ہے اور آپ کو برسوں یاد رکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوگوں کو مسائل کا حل چاہیے، انتشار کی سیاست نہیں ،نوجوانوں کو ای ٹیکسی کا مالک بنائیں گے: شرجیل میمن
گراؤنڈ کی اندرونی کہانی
میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی جملہ بازی پر بات کرتے ہوئے سلمان بٹ نے انکشاف کیا کہ گراؤنڈ میں اترتے ہی موڈ بالکل بدل جاتا ہے اور صرف جیت ہی واحد مقصد رہ جاتا ہے۔ میچ کے دوران بھارتی اور پاکستانی کھلاڑیوں کے درمیان دلچسپ اور تیکھے جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ کبھی یہ گفتگو بہت اچھی اور خوشگوار ہوتی ہے تو کبھی حالات تھوڑے سخت بھی ہو جاتے ہیں، لیکن یہ سب کھیل کا حصہ ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں صرف اور صرف جیتنے کے لیے میدان میں ہوتی ہیں۔
کھلاڑیوں کے لیے مشورہ
سلمان بٹ نے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس میچ کے بارے میں زیادہ سوچ کر خود کو تھکانے کے بجائے ریلیکس رہیں اور میدان میں جا کر حالات کے مطابق فیصلے کریں۔ جیت ہو یا ہار، یہ کھیل کا حصہ ہے، اس لیے کھلاڑیوں کو اسے بہت زیادہ اعصاب پر سوار نہیں کرنا چاہیے۔








