کچھ دیر بعد لڑکے باہر نکل آئے، دھیمی دھیمی ہنسی ہنس رہے تھے، خاموش رہنے میں عافیت جانی ظاہر ہے پھر کبھی پانی کے اس کھیل کے قریب بھی نہ گیا
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 58
یہ بھی پڑھیں: تیل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل نے منافع بڑھانے کا مطالبہ کردیا
نہر جھنگ برانچ کا تجربہ
عُقدہ یہ کھلا کہ یہ نہر جھنگ برانچ تھی جس میں پانی کی گہرائی دس بارہ فٹ تک ہے اور پانی کا بہاؤ بھی کافی تیز ہے۔ سبھی لڑکے تیراک تھے، وہ سب ”کھڑی تاری“ یعنی کھڑے کھڑے تیر رہے تھے اسی وجہ سے پانی اُن کی گردنوں تک ہی رہتا تھا۔ میں ”بھولا بھالا پنچھی“ جس نے اپنے گاؤں کے پاس ایک ”راجباہ گٹی“ کو ہی دیکھا تھا جس میں دو تین فٹ پانی بہتا تھا، اپنی اس کم علمی کے جال میں پھنس گیا۔ لیکن قسمت اچھی تھی کہ ہاتھ گھاس کو پڑ گیا اور باہر نکل آیا ورنہ اگر پانی کی تیز رو کی نذر ہوجاتا تو وہ لڑکے کیونکر بچا سکتے تھے۔ کچھ دیر بعد لڑکے باہر نکل آئے۔ وہ کچھ دھیمی دھیمی ہنسی ہنس رہے تھے۔ میں نے خاموش رہنے میں عافیت جانی اور پھر کبھی اس پانی کے کھیل کے قریب بھی نہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت بڑھتی کشیدگی پر تجزیہ کار اور صحافی کیا کہتے ہیں؟
درس و تدریس سے کنارہ کشی
تین چار مہینے اس سکول میں گزارے لیکن ساری صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ درس و تدریس کا شعبہ کچھ میری طبیعت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چنانچہ ہیڈ ماسٹر فتح محمد صاحب کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ انہوں نے سمجھانے بجھانے کی کوشش کی لیکن میں مصر رہا۔ لہٰذا میں فارغ ہو کر گھر آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ اجلاس؛ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے قرارداد مسترد
نئی ملازمت کی تلاش
اخبارات کی ورق گردانی شروع تھی۔ ایک دن ایک اشتہار ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے نظر سے گذرا۔ اس میں سوائل سروے کے لیے ریسرچ اسسٹنٹ کی اسامیوں کی تشہیر تھی۔ فوراً درخواست داغ دی۔ بلاوا آیا۔ لاہور میں ”ڈائریکٹر لینڈ ریکلمیشن“ کے دفتر میں انٹرویو کے لیے حاضر ہوئے۔ انٹرویو میں پوچھا گیا کہ بھئی فیلڈ میں کام کرو گے تو نوکری پکی۔ ہم نے ہاں کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ذاتی تشہیر کی بھوکی ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ میں کوئی شرم و حیا نہیں، پی ٹی آئی کی مریم نواز پر کڑی تنقید
پہلا دن اور میڈیکل کا تجربہ
ہمیں اُسی دن Appointment Letter مل گیا جس میں درج تھا کہ 31 جولائی 1954ء کو میڈیکل کروا کر ڈیوٹی جوائن کرو۔ میں تاریخ مقررّہ پر لاہور ضلع کچہری کے پیچھے واقع ”ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر“ کے دفتر پہنچا۔ وہاں پر غلام شبیر بھٹی سے ملاقات ہوئی جو بھی میڈیکل کے لیے ہمارے ساتھ شامل تھے۔ میڈیکل کئی گھنٹے جاری رہا، جس میں ہر اونچ نیچ کا مشاہدہ کیا گیا۔ آخر 2 بجے کے قریب ہمیں میڈیکل میں پاس ہونے کا پروانہ مل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت ریاستی دہشتگردی بند کرے اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے: پاکستان
ڈیوٹی جوائن کرنے کا فیصلہ
ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ بھٹی ایک جی دار لڑکا تھا۔ وہ کہنے لگا چلو جا کر ڈیوٹی جوائن کریں، میں فوراً مان گیا۔ اُن دنوں سوائے ٹانگہ وغیرہ کے اور ذرائع آمد ورفت نہ تھے، لہذا ہم نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم دفتر بند ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے پہنچ گئے۔ سانس پُھولے ہوئے پروانے سپرنٹنڈنٹ کو دئیے تو انہوں نے سوال کیا کہ ”آپ کے سانس کیوں پھُولے ہوئے ہیں؟“ ہم نے حقیقت حال کا بتایا تو وہ بڑے متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کی آج سے دفتر میں حاضری تصور ہوگی۔ چنانچہ اگلے ماہ کے شروع میں ہمیں 31 جولائی 1954ء کی ایک دن کی تنخواہ ملی۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








