چین کا یکم مئی سے افریقی ممالک کے لیے ٹیرف ختم کرنے کا اعلان
چین کا افریقی ممالک کے لیے درآمدی محصولات ختم کرنے کا اعلان
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چین کے صدر شی جن پنگ نے اعلان کیا ہے کہ چین یکم مئی سے بیشتر افریقی ممالک کے لیے درآمدی محصولات (ٹیرف) ختم کر دے گا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال، پاکستان کی فضائی حدود سے اوور فلائنگ میں اضافے سے لاکھوں ڈالرز کی آمدن متوقع
زیرو ٹیرف پالیسی کی توسیع
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چین پہلے ہی 33 افریقی ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی پر عمل کر رہا تھا، تاہم گزشتہ برس بیجنگ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس سہولت کو براعظم کے اپنے تمام 53 سفارتی شراکت دار ممالک تک توسیع دے گا۔ اب یکم مئی سے یہ رعایت عملی طور پر نافذ ہو جائے گی اور سوائے ایک ملک کے تمام افریقی ممالک اس سے مستفید ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں شدید بارش اور سیلاب 17 افراد ہلاک، متعدد زخمی، برفباری سے معمولات زندگی متاثر
اسواٹینی کا استثنیٰ
یہ سہولت صرف اسواٹینی کو حاصل نہیں ہوگی، کیونکہ اس ملک کے تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اسے علیحدہ ریاست تسلیم نہیں کرتا، جبکہ اسواٹینی افریقہ کا واحد ملک ہے جو تائیوان کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی سے ملنے والی 1800 سال پرانی ایسی چیز جو یورپ میں عیسائیت کی تاریخ بدل سکتی ہے
چین کا افریقا میں کردار
چین اس وقت افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور وہ اپنے وسیع “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے تحت براعظم میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالی معاونت بھی کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد افریقی ممالک امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے سخت عالمی محصولات کے بعد چین اور دیگر تجارتی شراکت داروں کی جانب زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
نئے مواقع کی توقع
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ زیرو ٹیرف معاہدہ افریقی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی تاریخ ایسے وقت میں بتائی جب افریقی یونین کے سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے براعظم کے رہنما ایتھوپیا میں جمع ہو رہے ہیں۔








