میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پر کہ میرے بچے گٹر میں گر کر مر جائیں، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت کی تنقید
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ اس حکومت اور 18 ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں، میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پر کہ میرے بچے گٹر میں گر کر مر جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں خاتون کے سامنے نازیبا حرکات، گرفتار نوجوان کا ویڈیو بیان سامنے آگیا
کراچی میں عوامی اجتماع کا خطاب
کراچی میں عوامی اجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے مقامی حکومت سے متعلق ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو رد کیا ہے، 18ویں آئینی ترمیم نے سب خراب کردیا ہے، دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو منظور کروائیں۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خبردار کر دیا
ایم کیو ایم کی تجدید اور عزم
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ خاموش ایم کیو ایم کو کمزور ایم کیو ایم نہ سمجھیں، ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اس زندگی سے موت اچھی ہے، ہمیں جدوجہد کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ ہمیں نسل پرستی کے الزام لگا کر نہیں لڑواسکتے، ہم نے 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی حمایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر پاکستان آصف علی زرداری کی 70 ویں سالگرہ دبئی میں منائی گئی
آبادی کی درست گنتی کا مطالبہ
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے ہمارے وجود تک کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر گنتی ٹھیک کی جائے تو کراچی کی آبادی 3.5 کروڑ اور حیدرآباد کی 40 لاکھ ہے۔ گنتی درست ہو تو سیٹیں بڑھیں گی، اور جو کراچی، حیدرآباد میں جیتے گا، حکومت بنائے گا۔
نئی ایم کیو ایم کی تشکیل
ان کا کہنا تھا کہ یہ پرانی ایم کیو ایم نہیں ہے، یہ کراچی کے ہر علاقے کی ایم کیو ایم ہے۔ آج اسٹیج پر سندھی بولنے والے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنما موجود ہیں۔ تم جتنے ڈسٹرکٹ بنا کر تقسیم کی سیاست کر لو، ہر جگہ ایم کیو ایم ہوگی۔ سندھ میں 18 سال سے تمہاری حکمرانی ہے، تم ہمیں گنتی صحیح نہیں کرتے، کوٹے پر بھی ہمیں نوکری نہیں دیتے، اس پر بھی جعلی ڈومیسائل بنا لیتے ہو۔








