صدر و وزیراعظم کی نئے چینی سال پر مبارکباد، پاک چین دوستی فولادی قرار
صدرِ پاکستان کا چینی عوام کے لیے پیغام
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے نئے چینی سال کی آمد پر عوامِ چین، حکومت اور قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ گھوڑے کا سال توانائی، ترقی اور استقامت کی علامت ہے۔ 2026 میں پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منائی جائے گی اور دونوں ممالک کی دوستی ہر موسم کی آزمودہ اور فولادی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخواہ میں 12 سالہ بچے کا زیادتی کے بعد قتل، قریبی رشتہ دار گرفتار
ون چائنا پالیسی کی حمایت
صدر مملکت نے ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر چین کی اصولی حمایت کو سراہا، انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور چیئرمین ماؤ کی تاریخی ملاقات کو پاک چین تعلقات کی علامت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بے قابو بیانات اور لاپرواہ دھمکیوں کا فیصلہ کن جواب دیں گے، ایرانی صدر
چین کا عالمی امن میں کردار
صدر زرداری نے کہا کہ چینی صدر کی قیادت میں چین عالمی امن و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کے کردار اور پاک چین دفاعی و سلامتی تعاون کو علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
سی پیک کا انقلابی منصوبہ
صدر مملکت نے سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ کا انقلابی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے مرحلے میں پاکستان مشترکہ خوشحالی کے لیے پُرعزم ہے، انہوں نے چینی عوام کے لیے’گونگ شی فا ثائے، شن نیان کوائیلا‘ کے الفاظ میں نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اکتوبر احتجاج کیس: عمران خان کی بہنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
وزیر اعظم کی مبارکباد
قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے نئے سال پر چینی صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تہنیتی پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ شی جن پنگ اور چین کے عوام کو خوشیوں بھرا نیا سال مبارک ہو، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیا سال پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔
چینی عوام کے لیے نیک تمنائیں
وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی عوام کی صحت، کامیابی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کا تعلق ہمیشہ مضبوط رہا ہے اور آئندہ بھی مزید مستحکم ہوگا۔








