اسلام آباد: سڑکوں پر افطار کرانے کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار
Islamabad Administration's New Decision for Ramadan 2026
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رمضان 2026 سے قبل ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سڑکوں اور عوامی مقامات پر افطار دسترخوان لگانے کے لیے پیشگی اجازت اور باقاعدہ رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت اور ہڑتالی اساتذہ کے درمیان مذاکرات کامیاب، پیر سے سکولز کھولنے کا اعلان
Reasons Behind the Decision
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق حکام کے مطابق یہ اقدام ٹریفک کی روانی، سکیورٹی خدشات اور صفائی کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف شاہراہوں، چوراہوں اور فٹ پاتھوں پر بغیر اجازت افطار دسترخوان لگانے سے ٹریفک جام اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: عطا اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس پر پاکستان تحریکِ انصاف کا ردِ عمل آگیا
Impact on Emergency Services
بعض مقامات پر ہنگامی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی، جس کے باعث شہریوں کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کو 13 سال پرانے مقدمے میں بڑی کامیابی، 3 ارب 9 کروڑ موصول
New Regulation for Organizers
نئے فیصلے کے تحت جو بھی تنظیم، فلاحی ادارہ یا شہری گروپ عوامی افطار کا اہتمام کرنا چاہے گا، اسے متعلقہ اسسٹنٹس کمشنر آفس یا ضلعی انتظامیہ سے پیشگی این او سی حاصل کرنا ہوگا۔
درخواست گزاروں کو مقام، وقت، متوقع شرکا کی تعداد اور سیکیورٹی و صفائی کے انتظامات کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی。
یہ بھی پڑھیں: قوانین کی خلاف ورزی پر 33 نجی سکولز کی رجسٹریشن منسوخ، 10 پر جرمانے عائد
Legal Consequences for Non-compliance
ضلعی حکام نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت سڑک یا عوامی جگہ پر افطار دسترخوان لگانے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانہ اور سامان کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بار اور ہائیکورٹ بار میں سب سے بڑا گروپ ہونے کے باوجود مسلم لیگی وکلاء مختلف دھڑوں میں بٹ جانے کے باعث 1996ء کے انتخابات ہار گئے تھے
Encouragement of Charitable Activities
تاہم فلاحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی جاری رہے گی، بشرطیکہ وہ مقررہ ضابطہ کار کے مطابق انجام دی جائیں۔
Public Reaction to the Decision
شہری حلقوں نے فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ افراد اسے نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔
دیگر کا کہنا ہے کہ فلاحی سرگرمیوں کو سہل بنانے کے لیے رجسٹریشن کا عمل سادہ اور تیز ہونا چاہیے۔








