این سی سی آئی اے اور دیگر ملازمین کی مستقلی کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے 43 افسران و ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت متعلقہ اداروں کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی امریکی تجویز پر سعودی عرب کا دوٹوک موقف آگیا
درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس محمد اعظم خان نے درخواست گزاروں کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت، ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور وفاقی وزارت قانون کو ہدایت کی کہ پیراوائز کمنٹس عدالت میں جمع کرائے جائیں اور ان کی نقول درخواست گزاروں کو بھی فراہم کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی وجہ سے لاہور میں بسنت منائی جا رہی ہے اور بسنت کے دن آسمان بانی پی ٹی آئی کی پتنگوں سے بھر جائے گا، علیمہ خان
وکیل کا مؤقف
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کنٹریکٹ ختم کرنے کے احکامات جاری کرنے سے روکے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی جاری رکھنے کا حکم دے، استدعا کی گئی کہ متعلقہ آسامیوں کو خالی قرار دے کر دوبارہ ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی سے روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: قونصل جنرل آف ٹرکیہ کی صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ سے اہم ملاقات،سیاسی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال
سروس ریکارڈ اور ترقی کے اقدامات
درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کو ان کا سروس ریکارڈ ایف پی ایس سی کو بھجوانے کا حکم دیا جائے اور ایف پی ایس سی کو قانون کے مطابق قواعد بنا کر ان کی ترقی اور مستقلی کے لیے اقدامات کا پابند کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران سے متعلق خاموشی سے تعمیری کردار ادا کرنے پر امریکہ نے پاکستان کی تعریف کردی
پٹیشن کے نکات
پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کو باقاعدہ اشتہار، ٹیسٹ، انٹرویو اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں ایف آئی اے سے ڈیپوٹیشن پر این سی سی آئی اے بھیجا گیا۔
عدالتی حکم اور آئندہ کا لائحہ عمل
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں لہٰذا فریقین کو جواب کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا.








