این سی سی آئی اے اور دیگر ملازمین کی مستقلی کے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے 43 افسران و ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواست پر وفاق سمیت متعلقہ اداروں کو جواب کے لیے نوٹس جاری کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں: سابق برطانوی فوجی پر جاسوسی کا الزام: “میں ایران کی انٹیلی جنس کو برطانیہ میں بے نقاب کرنا چاہتا تھا”

درخواست گزاروں کی جانب سے استدعا

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس محمد اعظم خان نے درخواست گزاروں کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کے بعد وفاقی حکومت، ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور وفاقی وزارت قانون کو ہدایت کی کہ پیراوائز کمنٹس عدالت میں جمع کرائے جائیں اور ان کی نقول درخواست گزاروں کو بھی فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فضائیہ کس طرح بھارت سے بہتر ہے؟ وہ کونسی صلاحیتیں ہیں جو بھارت کے پاس نہیں، معروف بھارتی صحافی نے انتہائی تفصیل سے سمجھا دیا

وکیل کا مؤقف

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کنٹریکٹ ختم کرنے کے احکامات جاری کرنے سے روکے اور پٹیشن کے حتمی فیصلے تک تنخواہوں اور دیگر مراعات کی ادائیگی جاری رکھنے کا حکم دے، استدعا کی گئی کہ متعلقہ آسامیوں کو خالی قرار دے کر دوبارہ ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی سے روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: معاشرے میں سماجی انصاف یقینی بنانے کے لئے تمام متعلقین کو مل کر کام کرنا ہوگا: وزیر اعلیٰ مریم نواز

سروس ریکارڈ اور ترقی کے اقدامات

درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ این سی سی آئی اے اور ایف آئی اے کو ان کا سروس ریکارڈ ایف پی ایس سی کو بھجوانے کا حکم دیا جائے اور ایف پی ایس سی کو قانون کے مطابق قواعد بنا کر ان کی ترقی اور مستقلی کے لیے اقدامات کا پابند کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کے مقابلے میں نئی انٹری نے پاکستانی آٹو سیکٹر کی تازہ دم کر دیا

پٹیشن کے نکات

پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کو باقاعدہ اشتہار، ٹیسٹ، انٹرویو اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں ایف آئی اے سے ڈیپوٹیشن پر این سی سی آئی اے بھیجا گیا۔

عدالتی حکم اور آئندہ کا لائحہ عمل

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں لہٰذا فریقین کو جواب کے لیے نوٹس جاری کیے جاتے ہیں، کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا.

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...