قوم کو دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، کرپشن، سیاسی خلفشار، مخالفت برائے مخالفت اور دیگر بہت سی قباحتوں کا سامنا ہے۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 311
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان کے اندھے قتل کا معمہ حل ، ملزم گرفتار
انتہا پسندی کی تعریف
ہمارے تھنک ٹینک کی رائے میں انتہا پسندی سے مراد مذہبی، لسانی، نسلی تفاخر، ذات پات اور صوبائی تعصبات، مذہبی و سیاسی عدم برداشت سے کام لیتے ہوئے دوسروں کو کم تر اور باطل سمجھنا، اپنی رائے کو حتمی قرار دینا اور نظریاتی اختلافِ رائے پر دوسروں کو قابلِ گردن زدنی قرار دینا ہے۔ نتیجتاً پاکستانی قوم کو دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، کرپشن، معاشرتی اور سیاسی خلفشار، حق و صداقت کا ساتھ دینے کی روش اپنانے کی بجائے مخالفت برائے مخالفت کی منفی سیاست اور دیگر بہت سی قباحتوں کا سامنا ہے۔ انتہا پسندی کے باعث ہماری قومی سلامتی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ انسانی اقدار کی نفی کرنے والے، ملکی قانون کا احترام نہ کرنے والے اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے بھی انتہا پسندی کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے ہاں رواج سا بن گیا ہے کہ نوکری کے بعد چاکری کرو، آج بھی افسوس ہے، جو ڈر گیا وہ مر گیا، شاید ڈرنا نہیں چاہیے تھا، اپنی اپنی قسمت ہے۔
مسائل کا حل اور تجاویز
انتہا پسندی کے مسائل سے نبردآزما ہونے اور اس کے بدترین اثرات سے بچنے کے لیے لائحہِ عمل، عملی اقدامات اور تجاویز مرتب کرنے کے ضمن میں جہاں 6 اکتوبر 2017ء کو لاہور میں ”پاکستان میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات اور ان کا حل“ کے موضوع پر ایک بڑے سیمینار کا اہتمام کیا گیا، وہاں تھنک ٹینک ہذا نے اس ضمن میں صدر کونسل اور چوہدری نور حسین کی رہائش گاہ میں متعدد اجلاس بھی منعقد کیے۔ تھنک ٹینک کے سرگرم ممبران نے 6 مہینوں تک اس مسئلہ پر غور و فکر کی مجالس میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان میں انتہا پسندی سے پاک مثالی معاشرے کی تعمیر کے لیے سفارشات مرتب کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میں اپنے بچے کے ڈائپر خود تبدیل کرتا ہوں: محب مرزا
اسلام کا پیغام
اسلام امن کا داعی ہے اور انسانی اقدار پر مبنی انسانی بھائی چارے کا قیام چاہتا ہے۔ مسلم معاشرے میں ہماری ہمسائیگی میں دائیں طرف مسلمان رہتا ہو اور بائیں طرف غیر مسلم، دونوں کے حقوق برابر ہیں، کیونکہ اسلام معاشرے میں امن و آشتی، انصاف مساوات، محبت بھائی چارے کی فضاء قائم کر کے پْرامن عالمی معاشرہ اور انسانیت کی فلاح چاہتا ہے۔ اسلام اس طرح اقلیتوں کے مال و جان، عزت و آبرو کی حفاظت پر زور دیتا ہے تاکہ ملک میں رہنے والے تمام مذاہب کے افراد امن و سکون اور عزت و آبرو کے یکساں تحفظ کی فضاء میں پروان چڑھیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین 2028 اولمپکس میں کرکٹ گولڈ میڈل جیتنے کے لیے سنجیدہ ہے اسٹیو واہ نے تمام ملکوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
عالمی مثالیں
یہ سب کچھ تب ہی ممکن ہے جب اقلیتوں اور غیر مسلموں کو بھی اپنے مذاہب اور عقائد، رسم و رواج کے مطابق آزادانہ اور عزت مندانہ زندگی گزارنے کا بلا روک ٹوک حق دیا جائے تاکہ وہ معاشرے میں شیر و شکر ہو کر رہیں، جیسا کہ آج یورپی ممالک اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے معاشرے امن و آشتی کے گہوارے بنے ہوئے ہیں اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔
اختتام
یہی وجہ ہے کہ آج لندن کا میئر مسلمان ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس، ہاؤس آف لارڈز میں مسلمان ممبران بھی نمایاں نظر آتے ہیں اور یہ معاشرے انتہا پسندی سے پاک روشن خیال معاشرے تصور ہوتے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








