ذاتی معالج تک رسائی عمران خان کا حق ہے، ملک میں ٹینشن اور گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، سب سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے، فواد چودھری
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے کہا ہے کہ عمران خان کا حق ہے کہ ذاتی معالج تک رسائی دی جائے، ملک میں ٹینشن اور گالم گلوچ کا ماحول ختم ہونا چاہیے، اور تمام سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہولی امید کا پیغام ہے، وہ امید جو ہمیں بہتر مستقبل کی خبر دیتی ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
پریس کانفرنس کی تفصیلات
یہ بات نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
یہ بھی پڑھیں: 50 سالہ فرحان علی آغا کی فٹنس دیکھ کر مداح حیران رہ گئے
فواد چودھری کا مؤقف
فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر پوری قوم پریشانی کا شکار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے معالج کو رسائی دی جائے تاکہ وہ جیل سے یہ فیصلہ کرسکیں کہ ان کے ساتھ کون ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کو اپنے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کے 43 کارکنوں کی ضمانت منظور
ملکی سیاسی صورتحال
فواد چودھری نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو نارمل کرنے میں کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے انقلاب کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ پاکستان کی معیشت کی بدحالی کی وجہ سے 125 عالمی کمپنیاں ملک چھوڑ چکی ہیں، اور آئی ایم ایف و اسٹیٹ بینک کی رپورٹوں میں عوام کی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر پولیس میں ہڑتال، اسلام آباد پولیس کے 2000 اہلکار طلب
حکومت کا مینڈیٹ
فواد چودھری نے نشاندہی کی کہ حکومت کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے اور حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں کوئی مثبت سیاسی ترقی نہیں ہورہی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو مل کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے 27 دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان کردیا
محمد علی درانی کا تبصرہ
سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے صدر مملکت کے ایک نازیبا بیان کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کی جانب سے خواتین کو حقیر سمجھنے والا بیان ناپسندیدہ ہے، اور انہیں قوم کو جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بیرسٹر محمد سیف کی رائے
بیرسٹر محمد سیف نے کہا کہ ملک میں سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی موجودہ صورت حال میں مثبت کردار کی تعریف کی اور واضح کیا کہ ملک کی آدھے سے زیادہ آبادی کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک متحد قوم کی ضرورت ہے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو ڈائیلاگ کے لیے آگے آنا چاہیے۔








