ٹیرف پرامریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رد عمل آ گیا

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹیرف پر امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رد عمل آگیا۔

یہ بھی پڑھیں: معاملہ حکمت و فہم و فراست کے ساتھ ڈیل کیا جاتا تو عمران خان جو تیسرا رمضان جیل میں گزار رہا ہے شاید آج اڈیالہ جیل کے بجائے ہسپتال میں ہوتا، علی محمد خان

صدر ٹرمپ کا بیان

’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے۔ اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کورٹ کے کچھ ممبرز کے لیے شرمناک ہے۔ دیگر ممالک امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، مگر ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حتمی فتح کے بہت قریب ہیں، جلد از جلد آپ کے درمیان پہنچنا چاہتا ہوں تاکہ مل کر ایران کو واپس لے سکیں : رضا پہلوی

عدالت کے اثرات

انہوں نے مزید کہا، "میں جو چاہوں کرسکتا ہوں مگر میں کوئی رقم وصول نہیں کرسکتا۔ عدالت غیر ملکی مفادات کے زیر اثر آ گئی ہے، ٹیرف سے متعلق دیگر متبادل طریقے استعمال کیے جائیں گے۔ مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: ایران سے مزید 99 پاکستانی تفتان بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے

ٹیرف کے حوالے سے مزید اقدامات

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا۔ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، اور دیگر ٹیرفس کے علاوہ 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ ٹیرف لگانے کے لیے مجھے کانگریس سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، سیکشن 301 کے تحت تمام قومی سلامتی ٹیرف برقرار رہیں گے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

خیال رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جس ہنگامی اختیار کا سہارا لے کر ٹیرف لگائے گئے، وہ اس حد تک طاقت استعمال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...