قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کا بل جمع، غیر مسلموں کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کی تجویز
اسلام آباد: شراب پر پابندی کے لئے آئینی ترمیم کا بل
جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکنِ قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے ملک میں شراب پر مکمل پابندی کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو لوگ خود کو قوم کا نمائندہ کہتے ہیں اگر وہی اپنے اثاثے قوم سے خفیہ رکھنا چاہتے ہیں تو یہ واضح طور پر دوہرا معیار ہے، سراج الحق
آئینی ترمیم کا مقصد
اس ترمیم کا مقصد آئین کے آرٹیکل 37 میں تبدیلی کر کے شراب کی فروخت اور استعمال پر ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر پاکستانی میں کشمیر کی محبت لہو بن کر دوڑتی ہے، قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی :وزیر اعلیٰ مریم نواز
غیر مسلموں کے استثنیٰ کا خاتمہ
نعیمہ کشور نے تجویز دی ہے کہ آرٹیکل 37 میں موجود "غیر مسلم" کا لفظ ختم کیا جائے۔ ترمیم کی منظوری کی صورت میں شراب کے استعمال پر غیر مسلموں کو دیا گیا موجودہ آئینی استثنیٰ ختم ہو جائے گا، جس سے ملک میں اس کی دستیابی پر مکمل پابندی عائد ہو سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان سلطانز کے خسارے میں چلنے کا تاثر غلط ہے، پہلے ٹیم کا منافع دکھائیں گے پھر نیلام کریں گے، محسن نقوی
نا انصافی کا مسئلہ
رکنِ اسمبلی نے کہا کہ شراب کی تمام مذاہب میں ممانعت ہے، لہٰذا اقلیتوں کو شراب کے ساتھ جوڑنا ان کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔
اسلامی قوانین کے مطابق
نعیمہ کشور نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 227 واضح ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کی روشنی میں بنائے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں مسلم ریاست کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کو شراب کے پرمٹ جاری کرے۔








