6 مارچ سے 20 مارچ تک پاک بھارت جنگ کا خدشہ، اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، معروف آسٹرولجر قلب اعظم کا دعویٰ
پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کا خدشہ
لاہور (ویب ڈیسک) ماہر علم النجوم قلب اعظم نے پیشنگوئی کی ہے کہ 6 مارچ سے 20 مارچ کے درمیان پاک بھارت جنگ کا خدشہ ہے، اس بار پاکستان بھارت کے ایک درجن سے زیادہ طیارے گرائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اگست کا مہینہ کافی خطرناک ہوسکتا ہے۔ قبل ازیں علی امین گنڈا پور کی رخصتی اور گذشتہ برس مئی میں بھی پاک بھارت جنگ کی پیشنگوئی درست ثابت ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئے سال کا پہلا روز، سونے کی قیمت 2400 روپے مزید گر گئی
فضائی کشیدگی کے امکانات
ماہر علم النجوم نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ فضا میں جیسے انگار کی تپش بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ خاص طور پر 6 مارچ سے 20 مارچ کے درمیان حالات مزید خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس عرصے میں خطے کی صورتحال بھی خاصی کشیدہ ہو سکتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کسی بھی قسم کی اسٹرائیک یا جنگ کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے بھارت کے گیارہ جہاز گرائے تھے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس بیان کے پیچھے چھپی حقیقتیں شاید آنے والے وقت میں مزید واضح ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن والے ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، عطاتارڑ نے کل جماعتی کانفرنس کوچوں چوں کا مربہ قراردے دیا۔
انگارک یوگ اور فضائی حادثات
قلب اعظم کے وی لاگ کے مطابق اس وقت انگارک یوگ ہوائی برج میں ایکٹیو ہے، اور جب مریخ اور راہو کی ایسی شدت پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات اکثر فضائی حادثات، جہازوں کے کریش، اور فضائی حملوں کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔ اس لیے اس دوران فضائی حادثات کے امکانات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح خطے میں بھارت کو بھی اس بار بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان میں پولیس اور واپڈا کے درمیان انوکھا فلمی تصادم، پورا علاقہ پریشان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی
دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ وی لاگ میں مزید کہا گیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جو حالات بنتے جا رہے ہیں، وہ ایک بڑی ٹکراؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایران جو قدم اٹھانے جا رہا ہے، اس کا اندازہ اسرائیل نے بھی مکمل طور پر نہ لگایا ہو۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 6 مارچ سے 22 مارچ تک کا وقت دنیا کے لیے نہایت حساس اور خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ اس عرصے میں جنگی کشیدگی، حادثات اور خون خرابے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک کے مناظر: جلی ہوئی ٹرک، ٹوٹی گاڑیاں، سڑک پر بکھرے شیشے اور عمران خان کے پوسٹرز کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد کا حال
عالمی منظرنامے کے ممکنہ اثرات
موجودہ عالمی حالات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیدائشی زائچے کو دیکھا جائے تو اس وقت اس پر مارک سیاروں کی دشا بھی فعال دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے بھی ایک مشکل دور بنتا نظر آ رہا ہے۔ زائچہ سے دیکھا جائے تو آنے والے مہینوں میں اسے صحت کے مسائل، کسی بیماری یا ممکنہ حادثے جیسے خطرات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
معاشی اثرات
ماہر علم النجوم کے دعوے کے مطابق اگست کے آس پاس یا اس کے بعد کا وقت ٹرمپ کے لیے زیادہ چیلنجنگ دکھائی دیتا ہے، جہاں حالات اس کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر عالمی منظرنامے کو دیکھا جائے تو یہ جنگی فضا دنیا کی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ جنگیں ہمیشہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، تجارت اور عالمی مارکیٹس تک پھیل جاتے ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ (Middle East) کی معیشت کو اس کشیدگی سے شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ وہاں کی ترقی کی رفتار کو ایک بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، اور معاشی استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں.








