پنجاب میں 3 ماہ کے اندر فلڈ زون خالی کرنے کا فیصلہ، 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز پر اتفاق
فلڈ زون کی خالی کرنے کی منظوری
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں 3 ماہ کے اندر فلڈ زون خالی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت پوسٹ فلڈ انتظامات کیلئے خصوصی اجلاس ہوا جس میں متعلقہ محکموں نے تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کو کے پی سینیٹ الیکشن کیس میں جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت
دریا کی گزرگاہوں میں تعمیرات کی پابندی
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دریا کی گزرگاہوں میں تعمیرات بنانے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔ اجلاس میں آبی گزرگاہوں میں قائم غیر قانونی تعمیرات سیلاب سے گرنے کی صورت میں امداد نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کے الزام میں آئرش گلوکار پر دہشت گردی کی فرد جرم عائد
پائیدار مانیٹرنگ کے اقدامات
وزیراعلیٰ مریم نواز نے آبی گزرگاہوں میں غیر قانونی تعمیرات کے سدباب کے لئے مستقل مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلڈ زون میں تعمیرات بنانے پر پابندی کے حوالے سے سپریم کورٹ بھی فیصلہ دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایچ بی ایل پی ایس ایل میں توسیع، 2 نئی ٹیموں کی نیلامی کل اسلام آباد جناح کنونشن سینٹر میں ہوگی
چنیوٹ میں بند کی منظوری
وزیراعلیٰ نے چنیوٹ میں بند بنانے کے لئے فیزیبلٹی رپورٹ مکمل ہونے پر اصولی منظوری دے دی۔ انہوں نے ان فلیٹ ایبل ڈیم ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں پنجاب میں 17 مقامات پر منی ڈیم بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کا سلمان اکرم راجہ کے عالیہ حمزہ سے متعلق بیان پر رد عمل آگیا
آبی ذخائر کی استعداد میں اضافہ
اس موقع پر کالا باغ اور سدھنا کے مقامات پر آبی ذخائر کی استعداد بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پی ڈی ایم اے کی ری سٹرکچرنگ اور 8 نئے ونگ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر، ریجنل ڈیزاسٹر اور ویئر ہاؤس قائم کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: حقوق العباد کی سخت پو چھ گچھ ہے، یہاں کی گئی زیادتیوں کی معافی اسی انسان کے پاس ہے جو نشا نہ بنا ہو، اللہ کا اپنا نظام ہے جس پر صرف اسے ہی قدرت ہے
سڑکوں اور رابطوں کی بحالی
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ رابطہ سڑکوں اور راستوں کی بحالی مکمل ہو چکی ہے۔ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ 563 کلومیٹر طویل 186 روڈز، 446 پلیاں اور ایک پل بحال کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے آئندہ ہفتے مذاکرات کے دعوے کی تردید کردی
جدید آلات کی فراہمی
وزیراعلیٰ نے ریسکیو 1122 کو فلڈ آپریشن کے لئے جدید ترین آلات مہیا کرنے کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں 10 لینڈنگ کرافٹ / بیڑے، بوٹ کیئرئیر ٹرک، نیوگیشن اور کمیونیکیشن کے جدید آلات، فلائنگ لائف بوائے جیکٹ اور دیگر آلات خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی قوم انقلاب اسلامی کی سالگرہ پر عظیم الشان ریلیوں سے دشمن کو مایوس کرے: خامنہ ای
پنجاب میں سیلابی زون کی تفصیلات
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 5 دریاؤں پر فلڈ کے حوالے سے 1990 ہائی رسک زون، 1278 میڈیم رسک زون، اور 3169 لو رسک زون موجود ہیں۔ پنجاب میں آبپاشی کے 183 پراجیکٹ جاری ہیں، جبکہ 298 ڈرین /سیلابی نالے اور 67 ڈرینج سسٹم کی ڈی سیلٹنگ کی جائے گی۔ اگلے سال بھی 28 فیصد تک زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
پلاننگ کی تفصیلات
وزیراعلیٰ مریم نواز کو اجلاس میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پلاننگ پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔








