کیا دبئی کا مستقبل خطرے میں ہے؟
دبئی کی حیثیت پر سوالات
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کی حیثیت بطور عالمی مالیاتی مرکز سوالات کی زد میں آ گئی ہے، جبکہ متعدد امیر ایشیائی سرمایہ کار اپنی دولت دبئی سے نکالنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دھرنے اور نقصانات، گڈز ٹرانسپورٹرز نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کردیا
بھارتی تاجروں کا ردعمل
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ابتدائی حملوں میں دبئی کو نشانہ بنائے جانے کے فوراً بعد وہاں مقیم چند بھارتی کاروباری شخصیات نے گھبراہٹ میں اپنے بینک اکاؤنٹس سے بڑی رقوم منتقل کرنے کی کوشش کی۔ بتایا گیا ہے کہ دو بھارتی تاجروں نے تقریباً ایک لاکھ ڈالر سے زائد رقم سنگاپور کے بینکوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔ ابتدا میں تکنیکی مسائل کے باعث یہ منتقلی رک گئی، تاہم ان میں سے ایک شخص نے متبادل راستہ اختیار کرتے ہوئے رقم منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: کانگو میں بچوں میں پراسرار بیماری پھیلنے لگی، ڈبلیو ایچ او بھی پریشان، ماہرین بھیج دیے
ایشین سرمایہ کاروں کی بے چینی
ان واقعات کے بعد اب ایشیا کے امیر سرمایہ کاروں، خصوصاً چین سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کے درمیان بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ متعدد افراد خاموشی سے اپنے اثاثے، جائیدادیں اور فیملی آفسز دبئی سے نکال کر دوبارہ سنگاپور یا ہانگ کانگ منتقل کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ خلیجی خطہ اب پہلے جیسا محفوظ سرمایہ کاری کا مرکز محسوس نہیں ہو رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر آمادگی ظاہر کردی، عمان کا دعویٰ
مشاورت کی درخواستوں میں اضافہ
سنگاپور میں ویلتھ مینجمنٹ کے ماہرین اور قانونی مشیروں کے مطابق حالیہ دنوں میں دبئی میں مقیم امیر سرمایہ کاروں کی جانب سے مشاورت کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک وکیل نے بتایا کہ اس کے دبئی میں موجود چھ سے سات بڑے کلائنٹس، جن میں ہر ایک کے اثاثے اوسطاً پچاس ملین ڈالر کے قریب ہیں، فوری طور پر سرمایہ نکالنے کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور مالیاتی ادارے نے بتایا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران دس سے بیس فیملی آفسز نے سنگاپور منتقل ہونے کے حوالے سے ابتدائی رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کی جیت نے دنیا کے آمروں کو ہلا کر رکھ دیا ہوگا،سابق صدرعارف علوی کا ٹرمپ کوخط
دبئی کا پرکشش مرکز ہونا
گزشتہ چند برسوں میں دبئی عالمی سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش مرکز بن کر ابھرا تھا، جہاں کم ٹیکس، مالیاتی رازداری اور پرتعیش طرز زندگی نے دنیا بھر کے امیر افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب خطے میں جنگی صورتحال یا حملوں کا خدشہ پیدا ہو جائے تو ٹیکس میں بچت اور کاروباری سہولتیں بھی سرمایہ کاروں کے لئے اتنی پرکشش نہیں رہتیں۔
کاروباری حلقوں کا مؤقف
اس کے باوجود دبئی میں مقامی مالیاتی مشیر اور کاروباری حلقے اس تاثر سے مکمل طور پر متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیشتر کلائنٹس اب بھی پرسکون ہیں اور متحدہ عرب امارات کی طویل مدتی معاشی پالیسیوں اور استحکام پر اعتماد رکھتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق خاص طور پر ایشیائی سرمایہ کاروں کے ایک طبقے میں اعتماد میں دراڑ ضرور پڑی ہے، اور آئندہ چند ہفتوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا دبئی عالمی دولت کے لئے بدستور محفوظ پناہ گاہ رہتا ہے یا سرمایہ کار متبادل مراکز کی طرف منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔








