چہرے کی رنگت یکدم بدل گئی، سبھی خوش تھے، مشکل وقت میں کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے کہ غصہ ٹھنڈا ہو جاتا، افسر سے زیادہ پنگے بازی مناسب نہیں ہوتی۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 459
یہ بھی پڑھیں: ملتان سے کراچی فریج لینے کے لئے آئے شہری کو بائیک رائیڈر نے سی ویو لے جا کر لوٹ لیا
چائے پر ملاقات
اگلے روز خالد، ظہیر اور رانا منظور سے چائے پر ملاقات ہوئی۔ سبھی خوش تھے۔ خالد کہنے لگا؛ “سر! آپ مشکل وقت میں کوئی نہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ کمشنر کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کل بھی آپ نے سمجھ داری سے بگڑتی صورت حال قابو کر لی۔” یہ اللہ کی کرم نوازی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: قلات: دہشتگردوں کی سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی کوشش،6 دہشتگرد ہلاک،فائرنگ کے تبادلے میں7 جوان شہید
نئی تقرری
کچھ دنوں کے بعد خالد وٹو کی ٹرانسفر ہو گئی اور ان کی جگہ حافظ آباد کی ایڈیشنل ڈی سی جی سفینہ صدیق کی تقرری ہوئی۔ یہ دھان پان سی خاتون دلیر اور دبنگ افسر تھیں۔ ایک روز کمشنر نے ان کی سخت سرزنش کی۔ یہ یہ کہہ کر ان کے دفتر سے چلی گئیں؛ “کہ مجھے آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا۔” چند دن تک وہ دفتر نہ آئیں اور ان کے تبادلے کا حکم آ گیا۔ اس کے بعد ان سے ملاقات نہ ہوئی۔ بہت عرصہ بعد اخبار سے پتہ چلا کہ وہ نگران دور حکومت میں سیکرٹری خزانہ پنجاب بھی رہی تھیں۔ ان کی جگہ میرے بہاول پور کے کولیگ شہزاد سعید آئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: تربت میں دھماکہ، متعدد افراد زخمی، پولیس
جھوٹ کا الزام
ایک روز ویڈیو لنک پر میٹنگ ہو رہی تھی۔ ہیڈ کواٹرز سے کمشنر، ڈی سی او گوجرانوالہ اور میں تھے۔ باقی ڈی سی اوز اور ان کے افسران دوسرے اضلاع سے شامل تھے۔ کسی بات پر کمشنر مجھے کہنے لگے “تم جھوٹ بول رہے ہو۔” یہ فقرہ انہوں نے 2 بار دھرایا۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگر “آج جواب نہ دیا تو پوری ڈویثرن میں سبکی ہو گی۔” جب انہوں نے دوسری بار کہا تو مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے جواب دیا؛ “سر! جھوٹ میں نہیں بولتا، شاید آپ غلط بیانی کر رہے ہیں۔” یہ کہہ کر اٹھا اور میٹنگ سے چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول نے بھارت کے خلاف پاکستان کا مقدمہ یو این سیکرٹری جنرل کے سامنے پیش کر دیا
کمشنر کا زبردست ردعمل
تھوڑی دیر میں میٹنگ ختم ہوئی تو مجھے ڈی سی او منڈی اور اے ڈی سی جی سیالکوٹ عدنان کا فون آیا اور کہنے لگے؛ “سر! کمشنر کو جواب دے کے آپ نے کمال کر دیا۔” ڈی سی او گوجرانوالہ تو میرے کمرے میں آئے اور well done کہہ کر چلے گئے۔ میں نے دفتر آ کر انٹر کام آف کر دیا۔ کمشنر کا نائب قاصد آیا اور کہنے لگا؛ “سر! آپ کا انٹر کام بند ہے، کمشنر یاد کر رہے ہیں۔” میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا مگر گیا بھی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی استدعا پر جسٹس منصور کا علی امین گنڈاپور کو اہم مشورہ
کمشنر سے معافی
چند منٹ بعد انٹر کام کی گھنٹی بجی۔ کمشنر تھے کہنے لگے؛ “شہزاد! میرے پاس آؤ۔” شاید کمشنر کو غلطی کا احساس ہو گیا تھا یا میرا میٹنگ سے اٹھنا انہیں برا لگا تھا یا کسی تادیبی کارروائی کا وہ سوچے بیٹھے تھے۔ افسر سے زیادہ پنگے بازی بھی مناسب نہیں ہوتی۔ اُن کے دفتر آیا۔ رانا یعقوب بھی بیٹھا تھا۔ کہنے لگے؛ “شہزاد! قہوہ پیو گے۔” میں نے جواب دیا؛ “ضرور سر۔” پھر بولے؛ “شہزاد! برا مان گئے تم۔ مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ I was wrong۔ چلو بھول جاؤ اس بات کو۔” میں نے کہا؛ “سر! آپ کے اس فقرے نے بات ہی ختم کر دی ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کی اصفہان میں سائیکل کی سواری، ویڈیو وائرل
کمشنر کی عزت
قہوہ پیا۔ کچھ گپ شپ ہوئی اور ہم دفتر سے باہر آئے، کمشنر اپنے گھر چلے گئے۔ رانا یعقوب کہنے لگا؛ “سر! کمشنر آپ کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ مجھے کئی بار کہا کہ رانا ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ خاندانی اور upright آدمی ہے۔ سر! ویسے ہم سب ہی آپ کی عزت اور پیار کرتے ہیں۔” میں نے جواب دیا؛ “رانا صاحب! آپ سب کی محبت ہے اور کمشنر کا بڑا ن ہے۔ وہ خود بھی اچھے انسان ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تیل اور گیس کی پیداوار میں اضافہ
پودوں کی بات
کمشنر اکثر سرپرائز وزٹ پر جاتے تو عموماً میں بھی ساتھ ہی ہوتا تھا۔ ایک روز شہر کے وسط سے گزرتے اوور ہیڈ برج کے نیچے لگائے گئے پودوں کے معائنہ کے لئے رک گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ یہ پودے اے ڈی سی (جی) گوجرانوالہ صالح سعید (بعد میں یہ ڈی سی لاہور اور ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) بلدیات بھی رہیں۔ خالصتاً سی ایس پی افسر تھیں۔ دبنگ۔) جب تک وہ موقع پر پہنچیں کمشنر سیالکوٹی دروازے کے سامنے پلانٹیشن دیکھ رہے تھے۔ صالح سعید سے پوچھا؛ “صالح! اس ساری پلاٹیشن پر کتنی رقم خرچ آئی تھی۔” جواب دیا؛ “سر! پلانٹیشن پر کوئی 50 لاکھ روپے۔” یہ سننا تھا کہ کمشنر کا پارہ چڑھ گیا۔ بولے؛ “50 لاکھ میں سارا گوجرانوالہ ہرا بھرا ہو جاتا۔ ضرور ان فنڈز میں گڑبڑ ہوئی ہو گی۔ شہزاد! انٹی کرپشن کو ریفرنس بھجواؤ اور صالح تم مجھے ذرا اس پلانٹیشن کا ریکارڈ چیک کراؤ۔” صالح سعید کے لئے یہ الفاظ یقیناً سخت اور حیران کن ہوں گے۔ ان کے چہرے کی رنگت یک دم بدل گئی تھی۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








