حکومت پٹرول پر مختلف ٹیکس ملا کر تقریباً 120 روپے وصول کر رہی ہے، وزرا، سرکاری افسروں کی مفت پٹرول کی سہولت ختم ہونی چاہئے، حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان کا بیان
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ حکومت پٹرول پر مختلف ٹیکس ملا کر تقریباً 120 روپے وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے وزرا اور سرکاری افسروں کی مفت پٹرول کی سہولت ختم کرنے کی درخواست کی۔ مزید یہ کہ بڑی بڑی سرکاری گاڑیوں کی بجائے زیادہ سے زیادہ 1300 سی سی کی گاڑیوں کی سفارش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی سے امریکی سفیر کی ملاقات، دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے کا اضافہ عوام پر ظلم ہے۔ حکومت نے اس اضافے کے ساتھ 20 روپے پٹرول لیوی بھی بڑھا دی، جس کی وجہ سے فی لیٹر پٹرول پر لیوی 105 روپے تک پہنچ گئی۔ دریں اثنا، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمار سانو نے ذہنی، جسمانی تشدد کیا، مجھے دوران حمل بھوکا رکھا اور بچوں کے لیے بھی دودھ بند کر دیا تھا، سابق اہلیہ نے سنگین الزام عائدکردیے۔
متاثرہ طبقے کی صورتحال
موٹر سائیکل چلانے والے طالب علم، مزدور اور مڈل کلاس سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اگر روزانہ ایک لیٹر بھی استعمال کیا جائے تو 105 روپے صرف لیوی میں جا رہے ہیں، جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔ حکومت نے دو سال کے دوران پٹرول لیوی سے 2600 ارب روپے عوام سے وصول کئے ہیں۔
حکومت کی نااہلی
تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دے رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اشرافیہ سے ٹیکس کون لے گا؟ حکومت اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ وہ عوام سے پیسے لے رہی ہے مگر اپنی عیاشیاں ختم نہیں کر رہی۔ لہذا، پٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافہ فوری واپس لیا جائے۔








