ایران کو بہت زیادہ شدت سے نشانہ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے بارے میں بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے ذہن میں کنفیوژن تھی کہ اگر سینیٹ امیدواروں کی لسٹ عمران خان نے منظور کی تو میرٹ کی دھجیاں اڑادیں:اینکرپرسن عدنان حیدر
ایران کی جانب سے معافی
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے بیان میں امریکی صدر نے ایرانی صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ’معافی مانگی ہے اور اپنے مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں جبکہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اب ان پر حملہ نہیں کرے گا۔‘
یہ بھی پڑھیں: قاسم اور سلیمان سیاست میں آنا چاہیں تو انہیں کسی نے منع نہیں کیا، عمر ایوب
امریکی صدر کا دعوی
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی صدر نے یہ وعدہ صرف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ’خراب رویے‘ کی وجہ سے اب ایسے علاقوں اور گروہوں کو بھی نشانہ بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے جنہیں اس سے پہلے ہدف بنانے پر غور نہیں کیا گیا تھا۔
ایران کا حالیہ کردار
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب ’مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ‘ نہیں رہا بلکہ ’مشرقِ وسطیٰ کا ہارنے والا‘ بن چکا ہے اور کئی دہائیوں تک ایسا ہی رہے گا جب تک وہ ہتھیار نہیں ڈال دیتا یا مکمل طور پر تباہ نہیں ہو جاتا۔
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) March 7, 2026








