منگلا اور تربیلا ڈیم میں پانی کے وافر ذخائر اور رابطہ نہروں کی تعمیر سے سبز انقلاب آیا، ہم خوراک کی پیداوار میں خود کفیل ہو گئے ورنہ گندم منگوانا پڑتی تھی۔

تحریر کی تفصیلات

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 328

یہ بھی پڑھیں: بھائی جان ہمیشہ اُن کا کام کرتے جن سے کوئی فائدہ ہو، مشکل میں ماں باپ کے علاوہ صرف سایہ ہی ساتھ رہتا ہے یا کوئی مخلص غریب دوست

سندھ طاس معاہدے کے تحت منصوبے

کہتے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت عمل میں لائے گئے مذکورہ بالا منصوبے بہت بڑے تھے جو 10 سال کے قلیل عرصہ میں پایہئ تکمیل کو پہنچائے گئے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستانیوں کے لیے نوکریوں کے وسیع دروازے کھل گئے۔ سستی پن بجلی کے حصول سے نہ صرف پاکستان کے شہر روشن ہو گئے بلکہ فیصل آباد، شیخوپورہ، لاہور، کراچی، حیدر آباد اور دیگر شہروں میں صنعت و حرفت کو خاطر خواہ فروغ حاصل ہوا۔ منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم میں پانی کے وافر ذخائر اور رابطہ نہروں کی تعمیر سے پاکستان میں سبز انقلاب آیا۔ میکسی پاک گندم کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا اور ہم خوراک کی پیداوار میں خود کفیل ہو گئے ورنہ آئے روز امریکہ اور آسٹریلیا سے گندم منگوانا پڑتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم عوام کی نمائندگی نہیں کرتی، 31 اکتوبر کو منظور ہوجاتی تو کیا ہوجاتا؟ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی کڑی تنقید

1960 کی دہائی کا سنہری دور

آج دنیا کے تمام غیر جانبدار سیاسی مبصرین کے مطابق 1960ء کا عشرہ پاکستان کی گزشتہ 75 سالہ تاریخ کا سب سے سنہری دور تھا جب پاکستان ترقی کی دوڑ میں ایشیا میں جاپان کے بعد سب سے آگے تھا۔ چین، کوریا، ملائیشیاء، ہندوستان اور سنگاپور سب پاکستان سے پیچھے تھے۔ پاکستان کے دوسرے اور تیسرے 5 سالہ ترقیاتی منصوبے اچھی گورننس، سستی بجلی اور ملک میں سیاسی استحکام کے باعث کامیابی کی وسیع حدوں کو چْھو رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بختاور بھٹو نے اپنے تیسرے بیٹے کا نام کیا رکھا؟

مہنگائی اور سیاست

1958ء تا 1968ء تک 10 سالوں میں ہماری کرنسی 5 روپے فی ڈالر، پیٹرول 1 روپیہ فی لٹر کی سطح پر مستحکم رہا اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی قطعاً اضافہ نہیں ہوا۔ 1968 ء کی آخری سہ ماہی میں چینی کی قیمت 2 روپے فی کلو سے اڑھائی روپے ہو جانے پر نصف روپے کے اضافے کو اقتدار سے باہر سیاستدانوں نے بنیاد بنا کر مہنگائی اور جمہوریت کے نام پر قوم کو اْلّو بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے پولیس نے چادر، چار دیواری کا تقدس پامال کیا: جسٹس محسن اختر

جنرل یحییٰ خان کا اقتدار

جنرل یحییٰ خان نے ایوب خاں سے استعفیٰ لیکر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو نکالنے کے درپے ہمارے سیاسی قائدین کیوں چپ سادھ لی؟ کیا جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء ایوبی مارشل لاء کے مقابلے میں بہتر مارشل لاء تھا؟ قطعاً نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے این ایف کی ملک گیر کارروائیاں : 251 کلو منشیات برآمد،12 ملزمان گرفتار

ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت

افسوس پاکستان کی تاریخ میں سیاستدانوں اور دیگر حکمرانوں نے آج تک پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے مارشل لاء سے کچھ نہ سیکھا۔ بار بار غلطیاں دوہراتے چلے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں تقرر و تبادلے

نتیجہ

کاش ہمارے سیاستدان ایوب خاں کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر 1969ء میں عام انتخابات کروانے کے لیے زور دیتے تو وہ منتخب اسمبلی سے 1962ء کے آئین سے تمام غیر جمہوری شقوں کو خارج کر کے 1962ء کے آئینِ پاکستان کو بہتر سے بہترین بنا سکتے تھے۔

(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...