ایرانی صدر کے پڑوسی ممالک پر حملے روکنے کے اعلان کے باوجود بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں زور دار دھماکوں کی آوازیں
خلیجی خطے میں کشیدگی
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیجی خطے میں ہفتے کی شام ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی جب بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب اس سے چند گھنٹے قبل ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عندیہ دیا تھا کہ خلیجی ممالک میں حملے روک دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میری ترجیح تنازعات کا خاتمہ ہے، شروع کرنا نہیں، سمجھتا ہوں پاکستان اور بھارت کا تنازعہ حل ہو گیا، ٹرمپ
دھماکوں کی تفصیلات
عینی شاہدین کے مطابق بحرین میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دھماکے میزائلوں کے زمین پر گرنے سے ہوئے یا فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے نتیجے میں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی نشاندہی کیلئے ڈورن ٹیکنالوجی کا استعمال، جھنگ، چشتیاں اور بہاولنگر میں ریسکیو آپریشن
ایران کا دعویٰ
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا کہ بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی جیلوں میں ریفارمز کا سلسلہ جاری، بخشی خانوں کی بہتری کیلئے مراسلہ بھیج دیا گیا
قطر اور متحدہ عرب امارات میں صورتحال
دوسری جانب قطر میں موجود سی این این کے عملے نے بھی کئی دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں بھی کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں رپورٹ کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں سے اغوا ہونے والے تین سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد
متحدہ عرب امارات کی حکومتی ردعمل
متحدہ عرب امارات کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام اس وقت میزائل خطرے کا جواب دے رہا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے این پی کے مقامی رہنما قاتلانہ حملے میں جاں بحق
ایرانی صدر کا بیان
یاد رہے کہ اس سے قبل ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خلیجی عرب ممالک سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کا ہدف امریکی فوجی اڈے ہیں اور ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کر دے گا، بشرطیکہ اس پر مزید حملے نہ کیے جائیں۔
وضاحتی بیان
بعد ازاں ایرانی صدر کے دفتر کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ صدر کا پیغام واضح تھا کہ اگر خطے کے ممالک ایران پر امریکی حملوں میں تعاون نہیں کریں گے تو ایران بھی ان ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا۔








