خواتین کو انصاف کی رسائی میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے: چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان کا خواتین کے عالمی دن پر پیغام

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواتین قومی ترقی اور استحکام کا بنیادی ستون ہیں۔ آئین پاکستان خواتین کو قانون کے سامنے مکمل مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بہادر ٹریفک پولیس اہلکار نے جلتی عمارت سے 7 افراد کو زندہ بچالیا

خواتین کے حقوق کی حفاظت

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق خواتین کے عالمی دن پر چیف جسٹس نے اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ عدلیہ کی آئینی ذمہ داری ہے۔ تاہم، خواتین کو انصاف تک رسائی میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے، خاص طور پر دیہی اور محروم طبقات کی خواتین کے لیے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صبا قمر کو پولیس کی وردی پہننا مہنگا پڑ گیا

صنف اور عدلیہ

جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ عدلیہ صنفی حساس انصاف کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے عدالتی اصلاحات کا نیا ایجنڈا تیار کیا ہے۔ 2026-27 میں صنفی حساس انصاف عدالتی اصلاحات کا مرکزی حصہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے مزید 8 آئی پی پیز کے ٹیرف ریویو کی منظوری دیدی

عورتوں کے سہولت مراکز

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک بھر کی عدالتوں میں خواتین سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے اور خواتین کیلئے مفت قانونی معاونت اور ہیلپ لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خاندانی تنازعات کا حل

چیف جسٹس نے خاندانی تنازعات کے حل کیلئے مصالحتی نظام کو مضبوط بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ ایک منصفانہ معاشرہ خواتین کو وقار اور مساوات دینے سے بنتا ہے۔ قانون کی حکمرانی کی اصل طاقت کمزور طبقات کے تحفظ میں ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...