مرکزی جمعیت اہلحدیث سعودی عرب کے زیرِاہتمام غزوہ بدر کانفرنس
غزوۂ بدر کانفرنس
ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام غزوۂ بدر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علما و مشائخ، سفارتخانۂ پاکستان کے افسران اور پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی سے رشوت وصول کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ نے سابق ڈائریکٹر این سی سی آئی سرفراز چودھری کی ضمانت منظور کرلی
مقررین کے خیالات
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالمالك مجاہد نے کہا کہ غزوۂ بدر حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا، جو ایمان، اتحاد اور اللہ پر بھروسے کی عظیم مثال ہے۔ قاری حنیف ربانی کا کہنا تھا کہ بدر کا پیغام یہ ہے کہ کم وسائل کے باوجود ایمان کی قوت سب سے بڑی طاقت ہے اور آج امت کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ مولانا منظور احمد نے بتایا کہ رمضان کا آخری عشرہ رحمتوں اور مغفرتوں کا خزانہ ہے اور غزوۂ بدر اسی عشرے میں پیش آ کر اس کی عظمت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کا آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان
تاریخی اہمیت
کانفرنس کے نمایاں مقررین میں علامہ توصیف الرحمن، مولانا عبداللہ ناصر رحمانی، مولانا عبدالمنان راسخ اور عمر کیلانی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا اور غزوۂ بدر کی تاریخی اہمیت، اس کے ایمانی و روحانی اسباق اور رمضان المبارک کے آخری عشرے کی فضیلت پر روشنی ڈالی۔
دعائیں
اس موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعاء بھی کی گئی۔








