امریکہ ایران کے ایٹمی مواد پر قبضہ کرنے کے لئے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی ویب سائٹ کا دعویٰ
امریکہ کی ایران کے ایٹمی مواد پر قبضے کی ممکنہ کارروائی
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ ایران کے ایٹمی مواد پر قبضہ کرنے کے لیے سپیشل فورسز بھیجنے کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی نیوز ویب سائٹ "ایگزیوس" نے کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: داعش خراسان کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگز میں ملوث دہشتگرد مارا گیا
امریکہ اور اسرائیل کی بات چیت
ویب سائٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے سپیشل فورسز بھیجنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔ اس سے قبل امریکی میڈیا نے جمعے کو دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر مخصوص اہداف کے لیے فوجی ایران بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف شہروں میں مزید بارش اور برفباری، موسم دلفریب
ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام
جیو نیوز کے مطابق، امریکی ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہ صفر المظفر کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
ممکنہ فوجی کارروائی کی تفصیلات
اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے ممکنہ کارروائی میں امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر جانا پڑے گا اور جنگ کے دوران مضبوط زیر زمین تنصیبات تک پہنچنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے حملے میں ایران کے کتنے فوجی جاں بحق ہوئے؟
امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مشن امریکہ، اسرائیل یا دونوں کی مشترکہ کارروائی ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی جا سکتی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کو یقین ہو جائے گا کہ ایرانی فوج انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری کے استعفے کی افواہیں، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان کا بیان آ گیا
دفاعی عہدیداروں کی رائے
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران میں مخصوص مشنز کے لیے سپیشل آپریشنز یونٹس بھیجنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہ محمود قریشی کا بری ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، جس کسی نے ان پر ۹ مئی کا کیس بنایا ہے وہ کوئی بیوقوف آدمی تھا، حامد میر کا تبصرہ
امریکی انتظامیہ کے ممکنہ منصوبے
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ انتظامیہ 2 امکانات پر غور کر رہی ہے، ایک یورینیئم کو مکمل طور پر ایران سے باہر منتقل کر دیا جائے یا جوہری ماہرین کو وہاں بھیج کر اسی مقام پر اسے کم افزودہ کر دیا جائے۔ اس مشن میں اسپیشل فورسز کے ساتھ سائنس دان بھی شامل ہو سکتے ہیں جن میں ممکنہ طور پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی احتجاج کا شیڈول جاری کردیا
امکانات اور آپشنز کی پیشکش
اس معاملے سے واقف 2 ذرائع کے مطابق جنگ سے پہلے صدر ٹرمپ کو جو مختلف آپشنز پیش کیے گئے تھے، ان میں ایسے آپریشنز بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ عناصر جھوٹی خبریں پھیلا کر پاک افغان جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، عابد شیر علی
مشکل چیلنجز
ایک امریکی عہدیدار نے اس مشن کی مشکل بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلا سوال یہ ہے کہ یورینیم کہاں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم وہاں کیسے پہنچیں گے اور اس پر عملی کنٹرول کیسے حاصل کریں گے؟
ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز پر قبضے کا امکان
امریکی حکام کے مطابق یورینیئم کے علاوہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کے امکان پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔








