پیٹرولیم قیمتوں کا تعین مستقل فارمولے کے تحت ہوتا ہے، کمپنیوں کو اتار چڑھاؤ میں فائدہ اور نقصان دونوں کا سامنا رہتا ہے: رانا احسان افضل خان
وزیرِاعظم کے کوآرڈی نیٹر کی وضاحت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِاعظم پاکستان کے کوآرڈی نیٹر رانا احسان افضل خان نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین ایک واضح اور مستقل فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے، جس میں کسی خفیہ طریقہ کار یا من مانی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ترکیہ، سعودی عرب اور امریکا کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے، مفتی منیب الرحمان
قیمتوں کا تعین کرنے کا طریقہ
ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا قیمت مقرر کرنے کا فارمولہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے، چاہے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں یا کم ہوں۔ اس فارمولے کی بنیاد امپورٹ پیریٹی پرائس پر ہوتی ہے، جو عموماً عرب خلیج میں پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتوں، یعنی پلیٹس عرب گلف ریٹس کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں مختلف ٹیکسز اور لیویز، خصوصاً پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن، اور آئی ایف ای ایم جیسے اخراجات شامل کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں آخری 6 سال میں غربت 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.8 فیصد پر پہنچ گئی، گویا اصلاً اضافہ 31.5 فیصد ہوا ہے، حافظ نعیم الرحمان
شرائط و ضوابط
رانا احسان افضل خان کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ریگولیٹری قوانین کے تحت تقریباً بیس سے اٹھائیس دن کا لازمی ذخیرہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث بعض اوقات اس ذخیرے کی سطح مزید بڑھا دی جاتی ہے تاکہ سپلائی میں کوئی خلل نہ آئے۔ ان کمپنیوں کی خرید و فروخت کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے، یعنی وہ روزانہ فروخت بھی کرتی ہیں اور عالمی قیمتوں کے مطابق نیا اسٹاک بھی خریدتی رہتی ہیں تاکہ مقررہ سطح برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہ راست نشانہ بنایا جائے گا، ایرانی فوجی عہدیدار
فروخت اور خریداری میں توازن
انہوں نے وضاحت کی کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو کمپنیوں کو مختصر مدت کے لیے اس وقت فائدہ ہوسکتا ہے جب وہ پرانے نسبتاً سستے اسٹاک کو نئی زیادہ قیمت پر فروخت کرتی ہیں۔ تاہم یہ فائدہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا کیونکہ کمپنیوں کو فوری طور پر نئی اور مہنگی قیمت پر اسٹاک دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں پورے بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ پنجاب اور ہریانہ کے بغیر آپ روٹی نہیں کھا سکتے” بھگونت من
نقصانات اور مالی معاونت
اس کے برعکس جب عالمی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو کمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ انہیں مہنگے داموں خریدا گیا پرانا اسٹاک نئی کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا ہے۔ اس صورت میں ہونے والا نقصان کمپنیوں کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے اور معمول کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں حکومت کی جانب سے کوئی خودکار مالی معاونت فراہم نہیں کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: پرامپٹر کا بندر پاکستان کو ایک شرمناک شکست کے بعد للکار رہا تھا، مودی کو قوم سے خطاب کے بعد تنقید کا سامنا
قیمتوں میں توازن اور مارکیٹ استحکام
رانا احسان افضل خان نے کہا کہ مجموعی طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یہ نظام اتار چڑھاؤ کے دونوں پہلوؤں میں توازن پیدا کرتا ہے، یعنی قیمتوں میں اضافے کے دوران عارضی فائدہ جبکہ کمی کے وقت نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مارچ 2026 سے قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس کا مقصد قیمتوں میں بڑے اور اچانک اضافے یا کمی کو روکنا اور اتار چڑھاؤ کو نسبتاً کم اور تیز رفتار بنانا ہے تاکہ مارکیٹ میں استحکام اور سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
جماعت کا پیغام
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہیے کہ پیٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند معلومات کو ترجیح دیں کیونکہ صنعت کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیوں کو قیمتوں میں کمی کے دوران اکثر نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔








