اسرائیل سے بامعنی مذاکرات کرو، نہیں تو تمہارا دفتر بند کردیں گے، قطر نے حماس کو پیغام دے دیا
قطر کا حماس کو انتباہ
دوحہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) قطر نے حماس کو آگاہ کر دیا ہے کہ اگر عسکری گروپ اور اسرائیل تعمیری اور بامقصد مذاکرات میں شامل نہیں ہوتے، تو وہ اب مزید حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی نہیں کرے گا۔ سکائی نیوز کے مطابق قطر اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے کی ثالثی کی کوششیں روک دے گا جب تک حماس اور اسرائیل جنگ اور شہریوں کے مصائب کے خاتمے کے مقصد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے مخلصانہ آمادگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ذريعے نے مزید کہا کہ دوحہ میں حماس کا سیاسی دفتر "اب اپنے مقصد کو پورا نہیں کر رہا"۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان کشیدگی، مولانا فضل الرحمان کا مؤقف بھی آگیا
قطر کا ثالثی کردار
گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل پر حماس کے حملوں اور اس کے جواب میں غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے بعد سے قطر دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ قطر ان مذاکرات میں شامل تھا جن کے نتیجے میں گزشتہ سال عارضی جنگ بندی ہوئی اور حماس کے قبضے سے کچھ یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ قطر نے یہ فیصلہ دونوں فریقوں کی جانب سے تعمیری شمولیت کی خواہش ظاہر کیے بغیر بار بار صرف اپنی شرائط پر مذاکرات میں شرکت سے انکار کے بعد کیا ہے۔
مذاکرات میں ناکامی
قطر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ دونوں میں سے کسی بھی طرف سے آمادگی موجود نہیں ہے اور ثالثی کی کوششیں امن کی سنجیدہ کوشش کے بجائے سیاست کا رنگ اختیار کر گئی ہیں۔ اسی وجہ سے قطر نے اسرائیل اور حماس دونوں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ مزید ثالثی جاری نہیں رکھ سکتا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مذاکرات کا تازہ ترین دور بھی کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہا تھا، جس میں حماس نے قلیل مدتی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی تھی۔
Qatar has told Hamas that it will no longer host its political office unless the militant group and Israel engage in constructive and meaningful talks
Read more ⬇️
— Sky News (@SkyNews) November 9, 2024








