افغانستان پر روس کے حملے کے نتیجے میں 50 لاکھ مہاجرین کا سیلاب اْمڈ آیا،جس نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے پر برے اثرات مرتب کیے
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 332
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے خوشخبری، مزید پاور پلانٹس ٹیرف کمی پر رضامند
مخالف تحریک نظام مصطفیٰ
موجودہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے والد مولانا مفتی محمود تھے۔ دیگر قائدین میں قدآور سیاسی شخصیات جیسے ایئر مارشل اصغر خاں، مولانا شاہ احمد نورانی، سردار عبدالقیوم خاں، چودھری ظہور الٰہی، اشرف خان خاکسار، پروفیسر غفور احمد اور قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ رفیق احمد باجوہ، نوابزادہ نصراللہ خاں اور میاں طفیل محمد شامل تھے۔ اپوزیشن تحریک زور پکڑتی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: غیر معیاری سروس، 5 سال میں ٹیلی کام کمپنیوں پر 68.9 ملین کے جرمانے کیے گئے
مذاکرات کی ناکامی
بھٹو صاحب کے مخالف سیاسی تحریک لیڈران کے ساتھ مذاکرات کے متعدد دور ہوئے لیکن مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں بہت دیر کر دی گئی، جس کا فائدہ سینئر جرنیلوں نے اٹھایا۔ ان کے اپنے بنائے گئے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے اس نیم جمہوری دور کی بساط لپیٹ دی۔
یہ بھی پڑھیں: لاپتہ افراد کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم کریں گے، ہمارا منشور دہشت گردی کو روکنا ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
جمہوریت اور اپوزیشن
اس طرح جمہوری حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان الیکشن دھاندلی اور قومی اتحاد کی تحریک نفاذِ مصطفی ملک کے تیسرے مارشل لاء کا باعث بنی۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی ہسپتال میں رات کے وقت ڈاکٹر یا ذمہ دار افسر کی غیر موجودگی ہرگز قابلِ قبول نہیں، خواجہ عمران نذیر
جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء
1977ء کے ضیاء الحق مارشل کے آغاز میں جماعت اسلامی اور نوابزادہ نصراللہ خاں کی پاکستان جمہوری پارٹی دونوں نے اپنے وزیر حکومت میں شامل کروائے۔ جنرل ضیاء الحق کی ابتدائی مجلس شوریٰ اور 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں سوائے پیپلز پارٹی تقریباً تمام جماعتوں کے ارکان شامل رہے۔ 1985ء کی غیر جماعتی منتخب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیکر معروف مسلم لیگی لیڈر محمد خاں جونیجو وزیراعظم منتخب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگلی جانوروں نے اسلام آباد کا رخ کر لیا، ججز کالونی میں بندروں کے ڈیرے
وزیر اعظم کا کردار
وزیر اعظم محمد خاں جونیجو نے قومی اسمبلی کو جمہوری خطوط پر چلاتے ہوئے پارلیمنٹ کو بااختیار اور سپریم بنانے کی کوشش کی، لیکن ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بھی وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کر دیا گیا، اور اسمبلیوں کو توڑ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: دلوں کا رشتہ اب بھی زندہ ہے
افغانستان میں روسی مداخلت
جنرل ضیاء الحق مارشل لاء کا سب سے بڑا کارنامہ افغانستان پر 1979-80 میں روسی یلغار کے مقابلے کے لیے طالبان فورس کو متحرک کرنا تھا۔ 1981ء کے بعد امریکی امداد اور تعاون سے روس کو شکست دے کر واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ نئی قانون سازی 26ویں آئینی ترمیم کی توہین، عدالت میں چیلنج کریں گے، مولانا فضل الرحمان
پاکستان میں مہاجرین کا سیلاب
لیکن افغانستان پر روس کے حملے کے نتیجے میں 50 لاکھ مہاجرین کا سیلاب اْمڈ آیا، جس کے ساتھ منشیات فروشی، دہشت گردی، انتہا پسندی اور دیگر مہلک اسلحے کی سمگلنگ نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے پر منفی اثرات مرتب کئے۔
یہ بھی پڑھیں: مرد نورا فتیحی کو اس وقت تک پیچھے سے دیکھتے رہتے ہیں، جب تک وہ گھر میں داخل نہیں ہوجاتی، فضا علی
پاکستان پیپلز پارٹی کی مشکلات
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران سب سے زیادہ نقصان پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوا۔ ان کے چیئرمین بھٹو کو قتل کے الزام میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ان کے کارکنوں کو سخت سزائیں دی گئیں اور بہت سے ملک سے فرار ہو کر یورپ، امریکہ، کینیڈا میں سیاسی پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
نواز شریف خاندان کا فائدہ
اس دوران نواز شریف فیملی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا، جن کا کاروبار 1977ء تک پاکستان میں تھا۔ بھٹو صاحب نے ان کی فیکٹری کو قومی ملکیت میں لے لیا، لیکن جنرل ضیاء الحق نے واپس کروایا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








