پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہوسکا، مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان
پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پندرہ روزہ ورچوئل مذاکرات کے باوجود سٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سمیت پنجاب بھر میں ابرکرم برسنے کا امکان
آئی ایم ایف کا اعلامیہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیہ میں تصدیق کی کہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر بات چیت کے باوجود سٹاف لیول معاہدہ طے نہیں ہو سکا، تاہم اس دوران خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے اور مذاکرات جاری رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں یومیہ ہزاروں روپے کمانے والا بھکاری پکڑا گیا، اہم انکشاف
سخت مانیٹری پالیسی پر زور
اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کیلئے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر بھی زور دیا، پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر وعدوں کےمطابق رہا، مالیاتی خسارہ کم کرنے اور پبلک فنانس مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: غرور میں ڈوبا ایک شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا وہی ٹرمپ کے ساتھ ہو گا: خامنہ ای
مذاکرات کی تفصیلات
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان 25 فروری سے گیارہ مارچ تک ورچوئل مذاکرات ہوئے، پاکستانی وفد سے توانائی شعبے میں اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے پر بھی مذاکرات ہوئے، سماجی تحفظ، صحت اور تعلیم کے اخراجات بڑھانے پر معاشی ٹیم سے گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 2024 میں کتنے سولر پینلز درآمد کیئے؟ حیران کن انکشاف
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
اعلامیہ کے مطابق حکام کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے اصلاحاتی اقدامات میں پیشرفت اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف عید سعودی عرب میں منائیں گے،فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ہمراہ ہوں گے۔
آنے والے مذاکرات
آئی ایم ایف کے اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور مالی دباؤ پر تشویش ہے، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مزید مذاکرات آئندہ چند روز تک جاری رہیں گے۔
مالی امداد کے امکانات
خیال رہے کہ اگر یہ جائزہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو پاکستان ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ملین ڈالر اپریل کے آخر تک ملنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔








