پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو موبائل پیکجز کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر بڑھانے سے روک دیا
پی ٹی اے کا نیا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو موبائل پیکجز کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر بڑھانے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے کسی بھی فوجی مس ایڈونچر کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا، آرمی چیف
قیمتوں میں اضافہ کی نئی حکمت عملی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پی ٹی اے نے ٹیلی کام کمپنیوں کو موبائل پیکجز کی قیمتوں سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ موبائل پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ اب صرف سہ ماہی بنیادوں پر کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے تیسرے ون ڈے میں جنوبی افریقا کو شکست دے کر سیریز جیت لی
پچھلے سال کی قیمتیں مدنظر
حکام نے بتایا کہ اس سے پہلے ٹیلی کام کمپنیاں ماہانہ بنیادوں پر پیکجز کی قیمتیں بڑھاتی تھی، کمپنیوں کو گزشتہ سال کی قیمت دیکھ کر پیکجز کی قیمت بڑھانے کی اجازت دی جائے گی، گزشتہ سال کی نسبت 10 سے 20 فیصد بڑھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ای او لیسکو کا سینٹرل سرکل اور ڈی ایچ اے (ایسٹ) سرکل کا ہنگامی دورہ
صارفین کی شکایات کا ازالہ
پی ٹی اے کو صارفین کی جانب سے شکایات آرہی تھی،جس پر ایکشن لیا گیا، پی ٹی اے نے موبائل ٹیرف ریگولیشنز 2025 نافذ کر دیے ہیں، منظم اور متوازن ٹیرف نظام کے پیش نظر پی ٹی اے نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کی ناراضگی سے تنگ شوہر نے مشروب میں زہر ملاکر سسرال بھیج دیا، سسر جاں بحق
پیشگی منظوری کی ضرورت
حکام کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں نئے پیکجز کے اجراء سے قبل پی ٹی اے سے پیشگی منظوری کی پابند ہیں، کمپنیوں کو موجودہ نرخوں میں اضافے سے قبل بھی پی ٹی اے نے منظوری لینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت پر صوبہ پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا، جس سے صوبائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا، آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
ٹیلی کام مارکیٹ کی استحکام
پی ٹی اے حکام نے واضح کیا کہ پی ٹی اے صارفین کے تحفظ کے ساتھ ٹیلی کام مارکیٹ کے استحکام پر بھی نظر رکھتا ہے، پاکستان میں اوسط ریونیو فی صارف خطے میں سب سے کم ہے، پچھلے کچھ سالوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کا اوسط ریونیو فی صارف میں اضافہ ہوا ہے۔
فائیو جی کی لانچنگ کا اثر
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فائیو جی کی لانچنگ کے بعد اوسط ریونیو فی صارف مزید بہتر ہوگا، سپیکٹرم کی نیلامی سے ملک بھر میں کوریج، نیٹ ورک کارکردگی اور ڈیٹا اسپیڈ میں واضح بہتری متوقع ہے。








