ایف آئی اے کی کارروائی، مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث تین خواتین سعودی عرب سے واپسی پر گرفتار
وفاقی تحقیقاتی ادارہ کی کارروائی
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) امیگریشن نے مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو سعودی عرب سے واپسی پر حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: انوشکا شرما کی 7 سال بعد فلموں میں واپسی، فلم کی تفصیلات سامنے آگئیں
خواتین کے انکشافات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ خواتین نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ ایجنٹوں کے ذریعے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھیجی گئیں جہاں وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پانچ ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر پاکستان میں سرمایہ کاری کی توقع
مشکوک رویے کی بنیاد پر پوچھ گچھ
ایف آئی اے نے بتایا کہ مسافروں کی معمول کی امیگریشن کلیئرنس کے دوران ان کے رویے مشکوک لگنے پر تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں شدید بارش، سڑکیں تالاب کامنظر پیش کرنے لگیں
خواتین کی کہانیاں
ان کا کہنا تھا کہ ایک خاتون رابعہ زینب نے بتایا کہ لاہور کے رہائشی ایجنٹ شاہین نے اسے بیوٹی پارلر میں ملازمت اور ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کا جھانسہ دے کر سعودی عرب بھجوایا، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد وہ مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئی، بعد ازاں سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد سزا مکمل ہونے پر اسے پاکستان ڈی پورٹ کردیا گیا۔
اسی طرح دیگر دو خواتین سونیا اور سدرا بی بی نے بیان دیا کہ انہوں نے ایک ایجنٹ رشید کے ذریعے سعودی عرب جانے کا انتظام کیا تھا جہاں انہیں ایک لاکھ 20 ہزار روپے ماہانہ ملازمت کا وعدہ کیا گیا، تاہم بعد میں وہ بھی مبینہ طور پر جسم فروشی میں ملوث ہوگئیں، سعودی پولیس کے چھاپے میں گرفتار ہونے کے بعد دونوں خواتین کو سزا پوری ہونے پر پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
قانونی کارروائی کی تیاری
ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں خواتین کو مزید کارروائی اور ایجنٹوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا۔








