ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اسرائیل کا اعلان
اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں کم از کم مزید تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف مہم کے دوران ابھی ہزاروں اہداف باقی ہیں اور فوج ان پر حملوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اکتوبر احتجاج کیس: حماد اظہر سمیت 2 پی ٹی آئی رہنما اشتہاری قرار
حملوں کی منصوبہ بندی
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج اپنے امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر آئندہ کم از کم تین ہفتوں تک کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر چکی ہے، جو یہودی مذہبی تہوار فسح تک جاری رہ سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مدت کے بعد بھی مزید تین ہفتوں تک کے لیے گہرے منصوبے تیار کیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر شیری رحمان ایئرپورٹس پر ناکافی سہولیات اور بدانتظامی پر برہم، کہا ٹیکس دینے والے عوام بہتر سہولیات کے حق دار ہیں
فوجی کارروائیوں کی تفصیلات
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی اور وسطی ایران میں تقریباً چار سو فضائی حملوں کی لہریں کی جا چکی ہیں۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور آگ، دفاع اور اسلحہ سازی سے متعلق یونٹوں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ عرب-اسلامی سمٹ میں واحد ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے
بین الاقوامی اتحادیوں کا کردار
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ہزاروں اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ اسرائیلی فوج کسی گھڑی یا مقررہ وقت کے مطابق کارروائی نہیں کر رہی بلکہ اس کا مقصد اپنے اہداف حاصل کرنا ہے، جن میں ایرانی نظام کو شدید حد تک کمزور کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نیدرلینڈز کے سفیر رابرٹ جان کی ملاقات
حزب اللہ کا کردار
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائیوں نے لبنان میں موجود حزب اللہ کو بھی اس تنازع میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان کے بقول گزشتہ سال گرمیوں میں بارہ روزہ جنگ کے دوران حزب اللہ نے خود کو اس تنازع سے دور رکھا تھا کیونکہ اس وقت ایران کے خلاف کارروائی محدود نوعیت کی تھی، تاہم اب صورتحال مکمل جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے باعث حزب اللہ نے بھی محاذ سنبھال لیا ہے۔
آئندہ کی حکمت عملی
اسرائیلی حکام کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہیں۔ اسرائیلی فوج اپنی شمالی سرحد کی جانب مزید فوجی دستے بھیج رہی ہے تاکہ کچھ علاقوں پر قبضہ کیا جا سکے اور حزب اللہ کو سرحد سے مزید پیچھے دھکیلا جا سکے۔







