ایوب خان نے واشگاف الفاظ میں کہا ”ہم جذبۂ شہادت سے سرشار لوگ منہ توڑ جواب دیں گے اور دشمن کے مذموم مقاصد خاک میں ملا دیں گے“
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط 87
سال ختم ہوا تو ”سیکرٹری ایری گیشن“ کی طرف مجھے ایک ”لو لیٹر“ ناقص کارکردگی کی رپورٹ ملی۔ اُس میں سے دو الفاظ اب بھی یاد ہیں۔
"You are not zealous and observant"
سینئر کولیگ سے مشورہ
ایک سینئر کولیگ سے مشورہ کیا۔ تو وہ کہنے لگے کہ اگر ایک رپورٹ اور خراب نکلی تو تم نوکری سے فارغ ہو جاؤ گے۔ اُن کی تفتیش کے دوران موروثی پور ریسٹ ہاؤس والا سین جب اُن کو بتایا تو این یو خان صاحب کہنے لگے کہ بھولے بادشاہ ”زیدی صاحب“ ایسے ”امیر زادوں“ ”شوبازوں“ کے متعلق نتیجہ فوراً اخذ کر لیتے ہیں کہ اب وہ سرکاری خزانے میں خرد برد کرے ہی کرے۔
معافی کی درخواست
چنانچہ اُن کے مشورہ پر کہ اگر زیدی صاحب کے سامنے غلطی کی معافی مانگ لی جائے تو بھلے آدمی ہیں معاف بھی کر دیتے ہیں۔ میں نے ایک دن اُن کے دفتر میں حاضری دی اور صاف صاف بتا دیا۔ کہ سب کچھ نئی نویلی دلہن کو متاثر کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ ورنہ ہم تو دیہاتی لوگ ہیں، سادگی پسند ہیں، ہم تو گاؤں میں 6 افراد کی فیملی مہاجر ہونے کی وجہ سے تلاواں گاؤں نزد فیصل آباد میں ایک کمرے کے گھر میں رہتے ہیں۔
زیدی صاحب کا ردعمل
زیدی صاحب نے قینچی کے سگریٹ کا ایک کش لگایا اور کہا۔ نوجوان ٹھیک ہے، سروس میں کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے۔ آئندہ محتاط رہنا۔ چنانچہ پھر اگلی سالانہ رپورٹ ٹھیک ٹھاک ہی رہی۔
1970 کی دہائی میں ملازمت
1960ء کے عشرے میں بطور جونیئر ریسرچ آفیسر واپڈا میں ملازم تھا۔ میری سوئل سروے کی ڈیوٹی تھی۔ ہر ماہ 3 ہفتے فیلڈ میں ڈیوٹی اور ایک ہفتہ لاہور میں ہوتے۔ تنخواہ لیتے اور سوئل سروے کا سامان لیتے اور ڈیوٹی کے لیے چلے جاتے۔
مکان کی تعمیر
اسی عرصہ میں وہاں نواحی آبادی ”توحید گنج“ میں مکان بنا لیا۔ مکان کے سامنے کشادہ سڑک، پیچھے 15 فٹ کی گلی۔ مغرب میں میرا ہمسایہ نذیر احمد اور اُس کے 2 بیٹے محمد سرور اور محمد سلیم جو اگر گھریلو کسی کام کے لیے مدد کے لیے بلائے جاتے تو دوڑے آتے۔ مشرق میں 25 فٹ کا پلاٹ ”صادق حسین شاہ“ نے خریدا ہوا تھا۔
ہمسائیگی کا حق
اس خالی پلاٹ کی طرف سے رات کو چوری چکاری کا تو خطرہ تھا ہی۔ میرا ہمسایہ نذیر احمد میری 3 ہفتے کی فیلڈ ڈیوٹی کے دوران رات ہر روز دو تین دفعہ اُدھر خالی پلاٹ کی طرف ریکی کرتا۔ میرے گھر کے ساتھ چکر لگاتا۔ یہ اُس نے معمول بنا رکھا تھا۔ تاکہ میرا گھر محفوظ رہے۔
ہماری قوت کا عزم
کہاں ہیں وہ لوگ جو بے لوث ہمسائیگی کا حق یوں ادا کرتے تھے کہ اگر وہ یہ حق ادا نہ کریں گے تو شاید اللہ کی گرفت میں آجائیں گے کہ تم نے ہمسائیگی کا حق ادا کیوں نہ کیا۔
حصّہ بقدر جُثّہ (1965ء کی جنگ)
”واہگہ بارڈر“ پر جونہی ہندوستانی فوج کے حملے کی خبر چلی تو اُس وقت ملک کے سربراہ ”جنرل ایوب خان“ نے ریڈیو پاکستان سے ایک تقریر کی جس میں اُس نے واشگاف الفاظ میں ہندوستانی لیڈروں سے کہا کہ ”انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے؟ ہم جذبۂ شہادت سے سرشار لوگ دُشمن کو منہ توڑ جواب دیں گے اور اُن کے مذموم مقاصد خاک میں ملادیں گے۔“
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








