مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان کی ترسیلات زر میں سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کمی کا خدشہ
جنگ کی کشیدگی کا اثر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرق وسطیٰ کشیدگی سے پاکستانی معیشت اور اوورسیز پاکستانیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے کسی نئے سیلابی ریلے کی اطلاع نہیں،سیلابی پانی آج رات دریائے سندھ میں داخل ہوگا: پی ڈی ایم اے
ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ
سما ٹی وی کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے خبردار کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان کی ترسیلات زر میں سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کمی کا خدشہ ہے۔ بیرون ملک روزگار اور ترسیلات زر کم ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالیوڈ اداکارہ 60 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں
مشرق وسطیٰ میں پاکستانی مزدور
رپورٹ کے مطابق تقریباً 60 لاکھ پاکستانی مشرق وسطیٰ میں کام کر رہے ہیں، سالانہ 7 سے 8 لاکھ پاکستانی روزگار کیلئے خلیجی ممالک جاتے ہیں۔ اگر جنگ جاری رہی تو 2026 میں 5 لاکھ پاکستانی بیرون ملک نہ جا سکیں گے۔ ان ملکوں سے مزید 5 لاکھ پاکستانیوں کی واپسی کا خدشہ ہے، واپسی سے پاکستان کے روزگار کے بازار پر دباؤ بڑھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی سب سے محفوظ جوہری سائٹ پر حملے کے لیے تیار ہیں، اسرائیلی فوج کا دعویٰ
معاشی بحالی کے خطرات
خلیجی ممالک پر زیادہ انحصار معیشت کیلئے خطرہ ہے۔ مشرق وسطیٰ تنازع پاکستان کی معاشی بحالی کو متاثر کر سکتا ہے۔
معاشی اثرات کا جائزہ
رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کا تقریباً 10 فیصد حصہ ہیں۔ سعودی عرب اور یو اے ای پاکستانی مزدوروں کی بڑی مارکیٹس ہیں۔ پائیڈ نے نئے ممالک میں روزگار کے مواقع بڑھانے کی تجویز دیدی۔








