40 کروڑ بیرل ایمرجنسی تیل جاری کرنے کے باوجود قیمتیں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟
عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑھوتری
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی جانب سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بدستور بلند ہیں، حالانکہ عالمی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے بیلجیئم کے سفیر کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
عالمی توانائی ایجنسی کا اقدام
سی این این کے مطابق گزشتہ ہفتے عالمی توانائی ایجنسی کے رکن ممالک، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، اس بات پر متفق ہوئے کہ عالمی منڈی کو سہارا دینے کے لیے اپنے ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد جنگ کے باعث پیدا ہونے والی قلت کو کم کرنا تھا، تاہم اس کے باوجود عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین تک رقوم پہنچانے کے لیے 6 بینک سالانہ ساڑھے 4 ارب روپے سروس چارجز وصول کرتے ہیں، حکام
ایران کی صورتحال کا اثر
ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث روزانہ تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل خام تیل اور 50 لاکھ بیرل تیل سے بنی مصنوعات عالمی منڈی تک پہنچنے سے رک گئی ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے اگر 40 کروڑ بیرل تیل کے ہنگامی ذخائر جاری بھی کیے جائیں تو وہ محض 26 دن میں عالمی منڈی میں جذب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ای چالانز کا ہدف 95کروڑسے بڑھا کر ایک ارب 47کروڑ روپے مقررکردیا
فراہم کی جانے والی ہنگامی امداد
عالمی توانائی ایجنسی نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی تیل منڈی کی تاریخ میں فراہمی کے سب سے بڑے تعطل کو جنم دیا ہے۔ ادارے کے مطابق رکن ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا یہ اب تک کا سب سے بڑا اقدام ہے جو وقتی طور پر عالمی منڈی کو سہارا دے سکتا ہے، تاہم تیل کی فراہمی کو مستقل طور پر مستحکم کرنے کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے جہازوں کی معمول کی آمدورفت دوبارہ بحال ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت 3 لاکھ 59 ہزار 800 روپے کی سطح پر برقرار
ذخائر کی دستیابی
ادارے نے مزید بتایا کہ ایشیا اور اوشیانا کے ذخائر فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب کر دیے جائیں گے، جبکہ امریکہ اور یورپ کے ذخائر مارچ کے اختتام تک مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
مارکیٹ میں رسد کے طریقے
عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق تیل کے ذخائر کو مارکیٹ میں مختلف طریقوں سے فراہم کیا جا سکتا ہے، جن میں ٹینڈر کے ذریعے فروخت، قرض کی بنیاد پر فراہمی یا براہِ راست ریفائنریوں کو فروخت شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قلت کو کم کرنا اور قیمتوں کو قابو میں لانا ہے。








