جدید ہوائی اڈا جدید ترین سہولیات سے مزین تھا، چمکتے فرش دمکتے فانوس،رنگ رنگ کے لوگ، لگتا تھا نور کا ایک سمندر بیکراں حد نظر بکھرا تھا
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 469
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ججز نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کی کوشش کی جو صحیح فورم نہیں، وزیر مملکت برائے قانون
تھائی ائیر کی اڑان
میری اس تربیت کے لئے nomination ہوئی۔ میں نے کمشنر کو بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ ہمارا 15 رکنی تربیتی وفد سپیشل سیکرٹری بلدیات داؤد ببیچ کی سربراہی میں کوریا روانہ ہونا تھا۔ اس وفد میں ان کے علاوہ شاہد فرید،؟؟ فرید، طارق شیخ، نجیب اسلم، اللہ دتہ نجمی، (یہ میرا کولیگ تھے۔ سروس کے دوران کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ یہ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ ریٹائیرمنٹ کے بعد یہ “نوائے وقت” میں کالم لکھتے، پڑھ کر لطف آ جاتا کہ ان کالمز میں حالات حاضرہ کا تذکرہ، سروس کی یادداشتوں کا بیان انتہائی سحر انگیز انداز میں ہوتا کہ پڑھنے والا سر دھنتا رہ جاتا اور داد سخن دیے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ جیتے رہو، سلامت رہو نجمی۔) زمان وٹو، موسیٰ رضا، محمد خالد اور میں تھا۔ (باقی دوستوں کے نام ذہن سے نکل گئے ہیں۔ معذرت۔)
یہ بھی پڑھیں: چارے سے لدے جلتے ٹرک کو پٹرول پمپ سے ہٹاکر جانیں بچانے والے شہری کے لیے سعودی حکومت کا ایوارڈ کا اعلان
بانکاک کی اڑان
تھائی ائیر کے بوئنگ نے 27 اگست کی گرم رات لاہور سے اڑان بھری اور ساڑھے چار گھنٹے کی اڑان کے بعد بنکاک انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اتر گیا۔ بنکاک بڑی ٹورسٹ اٹریکشن ہے۔ دنیا بھر سے سیاح ادھر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں کے دلفریب ساحلوں کو حسن اور نور کی کہکشاں سے سجا دیتے ہیں۔ یہاں کے ہوائی اڈے کا شمار دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں ہوتا ہے۔ رنگ رنگ کے مرد و زن اس ہوائی اڈے کو رونق بخشتے اور خوشبو سے بھر جاتے ہیں۔ یہ جدید ہوائی اڈا ہر طرح کی سہولت سے لیس ہے۔ ہمارا یہاں پڑاؤ 3 گھنٹے کا تھا۔ اس ہوائی اڈے کی بھیڑ نے وقت کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ 3 گھنٹوں کا یہ پڑاؤ کچھ منٹ کا ہی لگا۔
یہ بھی پڑھیں: شفافیت کی بجائے ملک میں سیاستدانوں کے اثاثے چھپانے کے نِت نئے طریقے دریافت ہو رہے ہیں،مصطفیٰ نواز کھوکھر
کوریا کی طرف روانگی
بنکاک سے سیول تک ہماری میزبانی کورین ائیر کے جدید بوئنگ نے کرنی تھی۔ فضائی میزبان خوبصورت، ہنس مکھ اور آداب میزبانی سے واقف تھے۔ تھائی لینڈ سے کوریا کوئی پاپولر ہوائی روٹ نہیں ہے۔ کم سیاح ہی ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ لہذا اس ہوائی سفر کے ٹکٹ مہنگے ہیں۔ بنکاک سے سیول تک کا سفر 900 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے طے کرنے میں جہاز کو 8 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس سفر کا مشکل ترین پہلو یہ تھا کہ کورین ائیر پر ملنے والا کھانا بڑے دھیان سے کھانا پڑتا ہے کہ اس کے سلاد میں پورک کے ٹکڑے بھی شامل ہوتے تھے۔ گو ہمارے لئے حلال کھانا تھا مگر پھر بھی احتیاط ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے پاکستان مخالف من گھڑت بیانیے کو اس بار سچ کا روپ لینے نہیں دیا جائیگا: سینیٹر شیری رحمان
انچن ہوائی اڈہ اور نظارہ
“انچن ہوائی اڈے” پر اترنے سے پہلے جہاز کئی منٹ تک “انڈین اوشن” (بحر ہند) پر پرواز کرتا شاندار نظارہ دیتا ہے۔ نیچے ٹھاٹھیں مارتا سمندر، چڑھتا سورج اور ہوائی جہاز کی اتران شاندار منظر تھا۔ مجھے تو یوں لگا نہ جانے کب کوئی شرارتی سمندری لہر جہاز کو بھگو جائے مگر ایسا کچھ نہیں صرف سوچ ہی تھی۔ ہم انچن ہوائی اڈے پر اترے تو ہوائی اڈہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ جدید ترین ہوائی اڈا جدید ترین سہولیات سے مزین تھا۔ 5 جی وائی فائی، چمکتے فرش، دمکتے فانوس، رنگ رنگ کے لوگ۔ لگتا تھا نور کا ایک سمندر بیکراں حد نظر بکھرا تھا۔
اختتام اور نوٹ
کوریا چڑھتے سورج کی سرزمین کا ہمسایہ ہے۔ ہوائی اڈے سے ہی زبان اور کلچر کی اجنبیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








