پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا: وزارت اطلاعات
وفاقی وزارت اطلاعات کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بناءپر مسترد کرتے ہیں۔ طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی کا 3 سال سے مستفید ہونیوالے افراد کا ازسر نو سروے کرانے کا فیصلہ
سرگرمیاں اور نتائج
وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفراسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے۔ یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرونی سرمایہ کاری سے پہلے خود اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی، ہارون اختر
افغان طالبان رجیم کا ردعمل
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے۔ افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے لیڈر کے بارے میں اخلاق سے گری ہوئی باتیں کرو گے تو آپ کو تھپڑ ہی پڑے گا، ایم پی اے خالد نثار ڈوگر
سیکیورٹی ذرائع کی معلومات
خیال رہے کہ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں 2 مقامات پر تکنیکی سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن سٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا۔
فضائی حملے کی تصدیق
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملے کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔








