سپریم کورٹ کا دہشت گردی کے مقدمے میں نامزد ملزمان کو بری کرنے کا حکم
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے قتل اور دہشت گردی کے مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: احمد الشراع کی صدر ٹرمپ سے ملاقات، وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے شامی صدر بن گئے
تحریری فیصلہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اپیلوں پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کا سزائے موت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آنے والا گھنٹہ اہم، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا اہلکاروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت
بریت کا سبب
سپریم کورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیا، جبکہ ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے جس کے باعث شناخت کا عمل مشکوک ہے۔
تحریری فیصلہ میں لکھا گیا کہ گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی خراش کا نہ آنا غیر فطری ہے۔
ملزمان کی مشترکہ شناخت پریڈ قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر محفوظ ہے، شناخت پریڈ سے پہلے ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس: وکلا اور فیملی ممبران کو سماعت میں آنے کی اجازت
مزید وضاحت
فیصلہ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک کیس کی تفتیش کے دوران پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا۔
جس کیس میں اعتراف کیا گیا، ملزمان اس میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، جس کی بنا پر پہلے کیس میں بریت کے بعد ملزمان کا مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔
اس بنا پر استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شہادتیں پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔
حملے کی تفصیلات
واضح رہے واقعہ 1 مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔
حملے میں سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت چھ پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزمان پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کا بھی الزام تھا، جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو 6،6 بار سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان کو دی گئی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔








