یوکرین میں جاری جنگ دراصل روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست تصادم نہیں بلکہ مغربی ممالک کے ساتھ ایک بالواسطہ مقابلہ ہے، روسی سفیر
اسلام آباد میں روسی سفیر کا بیان
پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ دراصل روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست تصادم نہیں بلکہ مغربی ممالک کے ساتھ ایک بالواسطہ مقابلہ ہے، جو عالمی طاقت کے بدلتے توازن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نان فائلرز کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟ تاریخ پتہ چل گئی
یوکرین تنازع کی بنیادی وجوہات
بین الاقوامی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ یوکرین تنازع ایک نئے کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کو تقویت دے رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ برسوں تک عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ اس بحران کی بنیادی وجہ کیف حکومت کی جانب سے ڈونباس کو بزور طاقت اپنے ساتھ ملانے کی کوشش تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول میں رہی، مظاہروں کا سلسلہ بند ہو گیا ہے :ایرانی وزیر خارجہ
میدان جنگ کی صورت حال
روسی سفیر نے دعویٰ کیا کہ میدان جنگ میں صورت حال روس کے حق میں جا رہی ہے جبکہ یوکرینی افواج شہری آبادی اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ سفیر نے 10 مارچ کو بریانسک پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیم عام کرنے کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ عوام میں سیاسی شعور، بنیادی شہری و جمہوری حقوق کی شناخت پیدا ہو گی،غلط اور صحیح میں تمیز کرنے میں آسانی ہو گی
تنازع کا حل اور مذاکرات
البرٹ خوریف نے کہا کہ روس اس کے باوجود تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا حامی ہے اور 2026 میں اب تک ابوظہبی اور جنیوا میں امن مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں جبکہ قیدیوں کے تبادلے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی اس وقت تک موٴثر نہیں ہو سکتی جب تک تنازع کی بنیادی وجوہات، جیسے نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع اور روسی زبان بولنے والوں کے مسائل، حل نہیں کیے جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر سیاست دان میثاق جمہوریت پر عمل کریں تو بہتر سیاسی ماحول پیدا ہو سکتا ہے، مولانا فضل الرحمان
زاپوروجیا جوہری سٹی اور سیکیورٹی خدشات
روسی سفیر نے زاپوروجیا جوہری بجلی گھر کی سیکیورٹی، توانائی سپلائی لائنز اور عالمی تزویراتی استحکام کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ روس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا، تاہم سفارتی حل کے دروازے بھی کھلے رکھے گا。
سفیر کا ٹوئٹ پیغام
Briefing by Ambassador Albert P. Khorev on the situation in and around Ukraine (March 17, 2026)
Read in full: https://t.co/TMOZ05et66
Key points:
️Russia views the conflict in Ukraine not as a standoff between Russia and Ukraine, but rather as an indirect confrontation… pic.twitter.com/Zj9mtNWLb9
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) March 17, 2026








