یوکرین میں جاری جنگ دراصل روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست تصادم نہیں بلکہ مغربی ممالک کے ساتھ ایک بالواسطہ مقابلہ ہے، روسی سفیر
اسلام آباد میں روسی سفیر کا بیان
پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ یوکرین میں جاری جنگ دراصل روس اور یوکرین کے درمیان براہِ راست تصادم نہیں بلکہ مغربی ممالک کے ساتھ ایک بالواسطہ مقابلہ ہے، جو عالمی طاقت کے بدلتے توازن کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست، پشاور ہائیکورٹ برہم، چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا طلب
یوکرین تنازع کی بنیادی وجوہات
بین الاقوامی امور پر بریفنگ دیتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ یوکرین تنازع ایک نئے کثیر القطبی عالمی نظام کے قیام کو تقویت دے رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ برسوں تک عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ اس بحران کی بنیادی وجہ کیف حکومت کی جانب سے ڈونباس کو بزور طاقت اپنے ساتھ ملانے کی کوشش تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایکسپو سٹی دبئی کے عالمی صحت نمائش (WHX) میں پاکستان پویلین کا افتتاح، درجنوں کمپنیوں کی شرکت
میدان جنگ کی صورت حال
روسی سفیر نے دعویٰ کیا کہ میدان جنگ میں صورت حال روس کے حق میں جا رہی ہے جبکہ یوکرینی افواج شہری آبادی اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ سفیر نے 10 مارچ کو بریانسک پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور
تنازع کا حل اور مذاکرات
البرٹ خوریف نے کہا کہ روس اس کے باوجود تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا حامی ہے اور 2026 میں اب تک ابوظہبی اور جنیوا میں امن مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں جبکہ قیدیوں کے تبادلے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی اس وقت تک موٴثر نہیں ہو سکتی جب تک تنازع کی بنیادی وجوہات، جیسے نیٹو کی مشرق کی جانب توسیع اور روسی زبان بولنے والوں کے مسائل، حل نہیں کیے جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو، قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق
زاپوروجیا جوہری سٹی اور سیکیورٹی خدشات
روسی سفیر نے زاپوروجیا جوہری بجلی گھر کی سیکیورٹی، توانائی سپلائی لائنز اور عالمی تزویراتی استحکام کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ روس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا، تاہم سفارتی حل کے دروازے بھی کھلے رکھے گا。
سفیر کا ٹوئٹ پیغام
Briefing by Ambassador Albert P. Khorev on the situation in and around Ukraine (March 17, 2026)
Read in full: https://t.co/TMOZ05et66
Key points:
️Russia views the conflict in Ukraine not as a standoff between Russia and Ukraine, but rather as an indirect confrontation… pic.twitter.com/Zj9mtNWLb9
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) March 17, 2026








