روس میں ایرانی سفیر نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی روسی ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی تردید کردی
ایرانی سفیر کی تردید
ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن) روس میں ایرانی سفیر نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی روسی ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی تردید کردی۔
یہ بھی پڑھیں: معروف محقق و نقاد سلیم خان کیلیے عبد الحمید عدم لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کا اعلان
خبر کی وضاحت
روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے روس میں سفیر کاظم جلالی نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے ماسکو میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کے 8 سرچ اینڈ سویپ آپریشنز، 498 افراد سے پوچھ گچھ، 4 مشتبہ افراد گرفتار
ایرانی سفیر کا بیان
’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں روس میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ’’جھوٹ بولنے کی عادت جھوٹے کے ذہن سے کبھی نہیں جاتی، ایک ایرانی کہاوت ہے کہ جھوٹے کی یادداشت کمزور ہوتی ہے اور وہ جلد بھول جاتا ہے۔ پہلے مغربی میڈیا پروپیگنڈا کرتا رہا کہ شہید خامنہ ای وینزویلا اور روس چلے گئے ہیں اور اب خبر پھیلائی جارہی ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو علاج کے لیے روس منتقل کیا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں
نفسیاتی جنگ کا ذکر
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک نئی نفسیاتی جنگ ہے، ایران کے رہنماؤں کو نہ بھاگنے کی ضرورت ہے اور نہ پناہ گاہوں میں چھپنے کی، ان کی جگہ عوام کے درمیان سڑکوں پر ہے۔ ایرانی عوام کی برداشت، نظام کا عزم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ صلاحیت نہ صرف ایران کے لیے بلکہ پورے مغربی ایشیا کے لیے اس جنگ کے انجام کا تعین کرے گی، کیونکہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور خطے کی سلامتی کا دفاع امریکا کی جارحیت اور دباؤ کے خلاف کر رہا ہے۔ اس جنگ کے بعد مغربی ایشیاء کے سیکیورٹی نظام کو عوام کی حقیقی خواہشات کے مطابق بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر دوبارہ ترتیب دیا جائے گا۔
کویتی اخبار کا دعویٰ
خیال رہے کہ کویتی اخبار ’’الجریدہ‘‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی اپنے والد پر ہونے والے قاتلانہ حملے زخمی ہوئے تھے جس کے بعد انہیں علاج کے لیے ماسکو منتقل کیا گیا۔








