بھارت میں دریائے گنگا میں کشتی میں افطار کرنے پر 14 نوجوان گرفتار، مقدمہ درج
بھارت میں مسلمانوں کی گرفتاریاں
وارانسی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے شہر وارانسی میں کشتی میں افطار کرنے پر 14 مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے معاون خصوصی کے گھر پر راکٹ حملہ
واقعہ کا پس منظر
رپورٹس کے مطابق نوجوان دریائے گنگا میں افطار کر رہے تھے کہ ایک بی جے پی یوتھ لیڈر نے شکایت کر دی اور مسلم نوجوانوں پر مقدمہ درج کر لیا گيا.
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ
الزامات اور نتائج
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق نوجوانوں پر الزام تھا کہ کشتی پر ہونے والی افطار میں چکن بریانی کھائی گئی اور بچا ہوا کھانا مبینہ طور پر دریا میں پھینک دیا گیا، جس سے ‘‘مذہبی جذبات مجروح’’ ہوئے، اس کے باعث سب کو گرفتار کر لیا گیا.
یہ بھی پڑھیں: حافظ عبدالکریم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے بلا مقابلہ امیر منتخب
نکتۂ نظر اور حساسیت
ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں، کیا جذبات صرف اسی وقت مجروح ہوتے ہیں جب مسلمان اپنی عبادت کریں؟
مذہبی آزادی اور انتہا پسندی
یہ واقعہ بھارت میں مذہبی آزادی اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر ایک بار پھر بڑا سوالیہ نشان بن گیا.








